منگل‬‮ ، 10 مارچ‬‮ 2026 

وزیراعظم ہاؤس اور سپیکر ہاؤس مسترد، عمران خان اب اس جگہ رہائش اختیار کرینگے جس کا سنگ بنیاد 1988میں سابق وزیراعظم نواز شریف نے رکھا تھا ،سیکیورٹی اداروں کا کلیئرنس کا عمل شروع 

datetime 6  اگست‬‮  2018 |

اسلام آباد (آئی این پی) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین و نامزد وزیراعظم عمران خان کی طرف سے بنی گالہ کی پہاڑی سے مارگلہ کے پہاڑوں کے دامن میں واقع پنجاب ہاؤس میں رہائش اختیار کرنے کے اعلان کے بعد سیکیورٹی اداروں نے پنجاب ہاؤس کی کلیئرنس کا عمل شروع کر دیا ہے،سیکیورٹی کلیئرنس ملنے کی صورت میں عمران خان بطور وزیراعظم پنجاب ہاؤس میں قیام کر سکیں گے،

پنجاب ہاؤس کسی بھی طور پر وزیراعظم ہاؤس سے کم نہیں تاہم یہاں ہیلی پیڈ کی سہولت میسر نہیں ہے،پنجاب ہاؤس میں سابق وزیراعظم نواز شریف، سابق وزرائے اعلیٰ پنجاب شہباز شریف ،منظور ووٹو اور چوہدری پرویز الٰہی قیام کر چکے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین و نامزد وزیراعظم عمران خان وزیراعظم میں نہ رہنے کا اعلان کر چکے ہیں اس لئے وہ کسی مناسب اور چھوٹی جگہ پر اپنا دفتر قائم کرنا چاہتے ہیں جہاں سے امور مملکت چلائے جائیں گے۔ ذرائع کے مطابق عمران خان کو وزیراعظم ہاؤس کی بجائے پنجاب ہاؤس میں اپنا دفتر قائم کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے جس کیلئے پنجاب ہاؤس کی سیکیورٹی کلیئرنس کا عمل جاری ہے تاہم یہاں دفتر قائم کرنے یا رہائش اختیار کرنے سے متعلق عمران خان ہی حتمی فیصلہ کریں گے،پنجاب ہاؤس کا سنگ بنیاد 1988میں سابق وزیراعظم نواز شریف نے رکھا تھا اور اس کی تعمیر 5سالوں میں مکمل کی گئی،1993میں پہلے وزیراعلیٰ پنجاب منظور وٹو پنجاب ہاؤس میں قیام پذیر ہوئے جبکہ 1997میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف پنجاب ہاؤس میں رہے،2002میں چوہدری پرویز الٰہی جبکہ 2008 سے 2018 تک شہباز شریف پنجاب ہاؤس میں قیام کرتے رہے۔ پنجاب ہاؤس جو مارگلہ کے پہاڑوں کے دامن میں ریڈ زون میں واقع تمام عمارتوں سے بلندی پر موجود ہے ، پنجاب ہاؤس میں دو ملٹی پرپل ہال، وزیراعلیٰ انیکسی اور گورنر انیکسی ، ایڈمن بلاک اور ملازمین کی رہائش گاہیں ہیں۔ وزیراعلیٰ انیکسی سے ملحقہ ایک بڑا کمیٹی روم بھی ہے

جبکہ اس کے دو ڈرائنگ روم ہیں ایک ڈرائنگ روم فرسٹ فلور پر جبکہ دوسرا ڈرائنگ روم سیکنڈ فلور پر واقع ہے، دونوں ڈرائنگ رومز کے ساتھ بیڈ رومز بھی ہیں، سیکنڈ فلور کے ڈرائنگ روم میں نواز شریف قیام کرتے رہے ہیں جبکہ فرسٹ فلور پر واقع ڈرائنگ روم میں کیپٹن(ر)صفدر قیام پذیر رہے ہیں۔ ایڈمن بلاک میں رہائشی کمرے ہیں جبکہ پنجاب ہاؤس کے ملازمین کیلئے رہائش گاہیں بھی موجود ہیں۔ پنجاب ہاؤس میں ہیلی پیڈ نہیں ہے اگر کسی بھی وزیراعلیٰ کو بذریعہ ہیلی کاپٹر سفر کرنا پڑے تو وہ وزیراعظم ہاؤس اور ایوان صدر کا ہیلی پیڈ استعمال کرتے ہیں،

اگر عمران خان بھی پنجاب ہاؤس میں قیام کریں گے تو انہیں وزیراعظم ہاؤس یا ایوان صدر کا ہیلی پیڈ استعمال کرنا پڑے گا۔ عمران خان کے پنجاب ہاؤس منتقل ہونے کے ساتھ وزیراعظم ہاؤس کا تمام عملہ پنجاب ہاؤس منتقل ہو جائے گا جبکہ وزیراعظم ہاؤس کی سیکیورٹی بھی پنجاب ہاؤس کا کنٹرول سنبھال لے گی، پنجاب ہاؤس کا مرکزی داخلی گیٹ ججز کالونی کی طرف سے ہے جبکہ دوسرا گیٹ سندھ ہاؤس کے سامنے ہے ، شاہرائے دستور کے آخری حصے میں مارگلہ روڈ سے چند فرلانگ پہلے ایڈمن بلاک کا گیٹ ہے، پنجاب ہاؤس ریڈ زون میں واقع ہے۔سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے پنجاب ہاؤس میں ایک سب آفس قائم کر رکھا تھا تاہم تحریک لبیک کے فیض آباد کے مقام پر دھرنے کے دوران چوہدری نثار علی خان نے اپنی فیملی بھی پنجاب ہاؤس میں منتقل کر دی تھی اور وہ کچھ دنوں کیلئے پنجاب ہاؤس میں ہی قیام پذیر رہے۔



کالم



مذہبی جنگ


رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…