منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

ورلڈ بینک کا بڑا سرپرائز، کپتان کی حکومت آنے سے پہلے ہی اہم ترین منصوبے کیلئے فنڈز کے اجرا کی منظوری دیدی

datetime 6  اگست‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی)ورلڈ بینک نے سرمایہ کاری کو فرغ دینے اور ماحولیاتی گورننس کو مزید مستحکم کرنے کیلئے پنجاب گرین ڈیویلپمنٹ پروگرام کیلئے فنڈز کے اجرا کی منظوری دے دی۔میڈیا رپورٹ کے مطابق عالمی بینک کی دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ یہ منصوبہ آئندہ ماہ نئی منتخب حکومت کے قیام کے بعد شروع کیا جائیگا۔یہ پروگرام 5 سال کے عرصے پر محیط ہے جس کی

مجموعی لاگت 27 کروڑ 30 لاکھ ڈالر ہے جس میں 20 کروڑ ڈالر کی فنڈنگ عالمی بین کے انٹرنیشنل ڈیویلپمنٹ ایسوسی ایشن (آئی ڈی اے) کرے گا ٗعالمی بینک نے گزشتہ حکومت کے اختتام سے قبل 25 مئی کو مذکورہ منصوبے کی منظوری دی تھی۔اس پروگرام کے تحت حکومتِ پنجاب ماحول دوست توانائی منصوبوں میں سرمایہ کاری کو فروغ دیگی ٗ جو پنجاب گرین ڈیولپمنٹ پروگرام کے بعد بھی سرمایہ کاری کے وسائل متحرک کرنے کا ایک طریقہ ہے، یہ براہِ راست گرین انوسٹمنٹ کو نجی اور سرکاری سیکٹر میں ترجیح دے گا۔محکمہ خزانہ، بطور گرین انویسٹمنٹ سرمایہ کاری کا ایک پائیدار ذریعہ، مقامی مارکیٹ کو متحرک کرنے کے لیے گرین بانڈز کے اجرا کے اصولوں کا تعین کرے گا۔پنجاب ماحول حفاظت ایکٹ 1997 کے تحت صوبائی حکومت پروگرام سے تحت 5 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کا ایک فنڈ قائم کرے گی ٗاس منصوبے کو فضا، پانی اور زمین کے ماحولیاتی چلینجز اور پنجاب کی حالیہ کچھ برسوں میں معاشی ترقی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے بنایا گیا ہے۔ایک کروڑ سے زائد آبادی والا شہر لاہور، گزشتہ چند برسوں سے آلودہ دھند کا شکار ہے جو زیادہ تر کارخانوں، گاڑیوں اور بجلی گھروں، کچرا جلانے اور ناکارہ فصلوں کے جلائے جانے کی وجہ سے نکلنے والے دھویں کے باعث ہوتی ہے تاہم موسم کی مناسبت سے یہ دھند لاہور کے بعد پورے پنجاب تک پھیل جاتی ہے۔

ورلڈ بینک نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ صنعتکاری اور شہری آباد کاری کی وجہ سے فضائی، آبی اور زرعی آلودگی کی حالت مزید خراب ہوتی جائے گی تاہم اس کیلئے احتیاطی اقدامات اٹھانے ضروری ہیں۔عالمی بینک کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ صوبے میں صحت کی خرابی کی سب سے بڑی وجہ یہی آلودگی ہے جبکہ اس کی وجہ سے چمڑا، ٹرانسپورٹ اور زراعت کی صنعت بھی متاثر ہورہی ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ ملک میں توانائی کی کمی کی وجہ سے استعمال ہونے والے چھوٹے گھریلو ڈیزل جنریٹرز بھی ماحول میں خرابی کا باعث بن رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…