منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

بجلی کی میٹر ریڈنگ، بلنگ اورریکوری ہوگی اب بالکل ٹھیک کیونکہ۔۔۔وزارت توانائی نے اہم تجویز پر غور شروع کردیا

datetime 4  اگست‬‮  2018 |

اسلام آباد(سی پی پی) وزارت توانائی کی جانب سے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے میٹر ریڈنگ، بلنگ اور کلیکشن کے عمل کو نجی شعبے کو دینے کی تجویز زیر غور ہے۔ میڈیا کو حاصل دستاویز کے مطابق وزارت توانائی کی جانب سے توانائی سیکٹر کے گردشی قرضوں میں کمی کے لیے مختلف تجاویز زیر غور لائی گئی ہیں۔ توانائی سیکٹر میں گردشی قرضوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ بعض علاقوں میں بلوں کی ریکوری انتہائی کم ہونا بتائی جاتی ہے۔

جس کے باعث توانائی سیکٹر کے گردشی قرضے اس وقت 566ارب سے تجاوز کر گئے ہیں۔اس سلسلے میں وزارت توانائی کی جانب سے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے میٹرریڈنگ کے عمل کے ساتھ ساتھ بلنگ اور بل کلیکشن کے عمل کی بھی آؤٹ سورسنگ کی تجویز زیر غور ہے جس کا مقصد بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں میں ریکوری کو بڑھانا ہے۔وزارت توانائی کی جانب سے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے میٹرریڈنگ، بلنگ اور کلیکشن کے علاوہ اس کے آپریشن اور مینٹیننس کے عمل کو بھی نجی شعبے کے حوالے کرنے کی تجاویز زیر غور ہیں جبکہ وزارت توانائی کی جانب سے حکومت کو یہ سفارش بھی کی گئی ہے کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے سی ای اوز اور بورڈ آف ڈائریکٹرز کی پروفیشنل کمپوزیشن کی جائے۔دوسری جانب وزارت توانائی کی جانب سے لاسز میں کمی کے لیے بجلی کی ڈیمانڈ سائیڈ پر بھی اصلاحات کی تجویز زیر غور آئی ہے جس میں تمام کمپنیوں کے سہ ماہی ریویو کی بھی تجویز زیر غور ہے جبکہ میٹر ریڈنگ میں دور جدید کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ایڈوانس میٹرنگ انفرااسٹرکچر اور ایریل بنڈل کنڈکٹر بھی متعارف کرانے کی تجو یز زیر غور ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…