اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

لاہور میں ہونیوالی طوفانی بارش میں جی پی او کے سامنےشہباز شریف کی بنائی گئی سڑک میں پڑنے والے دیو ہیکل شگافوں کو کیسے انتہائی کم وقت میں بھر دیا گیا؟یہ کام کس خاتون افسر نے انتہائی کم وقت کر کے دکھا دیا؟

datetime 29  جولائی  2018 |

لاہور(این این آئی ) لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی ڈائریکٹر جنرل آمنہ عمران خان کی ذاتی نگرانی میں جی پی او کی عمارت کے سامنے مال روڈ کے دونوں طر ف سڑک پر اسفالٹ کی فائنل تہہ بچھانے کا کام مکمل کر لیا گیا ہے -تین جولائی کو شہر میں ہونے والی طوفانی بارش کے بعد جی پی او کے بالمقابل سڑک میں دو مقامات پر شگاف بن گئے تھے مگرلاہور ڈویلپمنٹ اتھا رٹی نے راتوں رات سڑک

کی مرمت کر کے مال روڈ کو ٹریفک کے لئے کھول دیا تھا-ایل ڈی اے کے عملے نے چیف انجینئر مظہر حسین خان کی نگرانی میں 24گھنٹوں سے بھی کم وقت میں ان شگافوں کو بھر دیا اور شہریوں کی سہولت کے پیش نظر کم سے کم وقت میں مرمت کا م مکمل کر کے سڑک کو دونوں اطراف سے ٹریفک کے لئے کھول دیا تھا- تا ہم سڑک پر اسفالٹ کی فائنل تہہ بارشوں کی شدت کم ہونے کے بعد بچھائی گئی ہے-دریں اثناء لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی ڈائریکٹر جنرل آمنہ عمران خان کی زیر نگرانی سپریم کورٹ رجسٹری کے گرد و نواح میں واقع شہر کی تین اہم سڑکوں کی صفائی ‘ بحالی اور انہیں خوبصورت بنانے کے منصوبے پر تیزی سے کام کیا جا رہا ہے -فین روڈ سے اے جی آفس جانے والی سڑک کو ون وے بنانے کے لئے اس پر ٹائر کلر نصب کر دئیے ہیںاور ٹریفک کی رہنمائی کے لئے سیفٹی سائن لگا دئیے ہیں-اب اس سڑک پر اے جی آفس کی طرف سے کوئی ٹریفک داخل نہیں ہو سکے گی – اس سڑک پر ٹریفک صرف فین روڈ چوک سے داخل ہو سکے گی۔ سپریم کورٹ رجسٹری کے سامنے واقع سڑک سے ہر طرح کا ملبہ ہٹا دیا ہے ‘ فٹ پاتھ پر ٹائلیں نصب کر دی ہیں ‘ کرب سٹون کو روغن کر دیا ہے ‘ سپریم کورٹ کی دیوار اور داخلی دروازے کے ساتھ پلانٹر رکھ کر ان میں پودے لگا دئیے ہیں‘ جی پی اوکی بیرونی دیوار کی مرمت شروع کر دی ہے ‘مین ہول پر کورز رکھ دئیے ہیں اور نابھہ روڈ چوک میںگرین بیلٹ پر گھاس لگا دی گئی ہے -غیر ضروری بینرز اور سائن بورڈز ہٹوا دئیے ہیں اور محکمہ پوسٹل لائف انشورنس کے خالی پلاٹ میں مٹی ڈال کر اس کے گرد حفاظتی دیوار بنا دی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…