پیر‬‮ ، 05 اکتوبر‬‮ 2026 

نواز شریف کوگھر کے سامنے گالیاں پڑتیںاور وہ خاموشی سے سر جھکا کر گزر جاتا ،مریم کیساتھ جیل میں کیا سلوک کیا گیا،باپ بیٹی کی مقبولیت میں اضافہ کیسے ہو گیا، جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا اس میں کیا کردار ہے؟ تہلکہ خیز انکشافات

datetime 24  جولائی  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان کے معروف صحافی ، تجزیہ کار و کالم نگار جاوید چوہدری اپنے آج کے کالم میں لکھتے ہیں کہ ہم جتنے بھی جانبدار‘ نواز شریف کے جتنے بھی مخالف ہو جائیں ہمیں ماننا ہوگا وہ نواز شریف جو 13 جولائی سے قبل اپنی غیر مقبولیت کی انتہا کو چھو رہا تھا‘لوگ ایون فیلڈ کے سامنے جسے گالیاں دیتے تھے اور وہ خاموشی سے سرجھکا کر گزرنے کے سوا کچھ نہیں کر سکتا تھا

اور جس کے امیدوار اس کے ٹکٹ واپس کر رہے تھے وہ آج دوبارہ پاپولر ہورہا ہے‘نواز شریف جب واپس آیا‘ وہ جب اپنی بیٹی کے ساتھ جہاز کے اندر سے گرفتار ہوا‘ وہ جب رائفل بردار باوردی جوانوں کے نرغے میں جہاز سے باہر لایا گیا‘ جب اس کی ادویات اور ڈاکٹر کو اس سے الگ کر دیاگیا‘ جب باپ اور بیٹی کو رات کے وقت اڈیالہ جیل میں بندکیا گیا‘ جب دونوں کو سی کلاس میں رکھا گیا‘جب میاں نواز شریف کو بیرک میں فرش پر سلایا گیا‘ جب باتھ روم بیرک سے دور تھا اور جب مریم نواز کو جیل کے ووکیشنل سنٹر میں بند کیا گیا‘ جب ان کے ملاقاتیوں پر پابندیاں لگائی گئیںاور جب اسے جیل کا گندہ کھانا دیا گیا اور جب یہ کہانیاں جیل سے باہر نکلیں تو گو نواز گو کے نعرے لگانے والے لوگوں کے دلوں میں نواز شریف کی ہمدردی جاگنا شروع ہو گئی‘ ڈالر کی اڑان اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافے نے اس ہمدردی کو بڑھا دیا‘ رہی سہی کسر اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے راولپنڈی بار ایسوسی ایشن سے خطاب اور حنیف عباسی کے خلاف انسداد منشیات کی عدالت کے فیصلے نے پوری کر دی ۔لہٰذا نواز شریف اب دوبارہ مقبولیت کی موٹروے پر چڑھ چکے ہیں‘ ہمیں یہ بھی ماننا ہو گا حنیف عباسی کے ساتھ 2012ءسے مسلسل زیادتی ہو رہی تھی‘ یہ عدالتوں سے تین سال سے فیصلے کی استدعا کر رہا تھا لیکن اے این ایف کے وکلاءعدالت میں پیش نہیں ہوتے تھے‘کیس کی تاریخ 21 اگست مقرر تھی لیکن 16 جولائی سے اس کیس کی روزانہ سماعت ہوئی اور21 جولائی کوفیصلہ سنا دیا گیا‘یہ فیصلہ بھی دن بارہ بجے محفوظ ہوا اور پھر پولیس اور رینجرز کے سائے میں رات کے گیارہ بجے سنا یا گیا‘حنیف عباسی نے عدالت کا فیصلہ تسلیم کر لیا لیکن عوام اسے ماننے کےلئے تیار نہیں ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…