بدھ‬‮ ، 11 فروری‬‮ 2026 

روپے کی بے قدری جاری، ڈالر تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پرپہنچ گیا،ماہرین کی انتہائی خطرناک پیش گوئی ،خطرے کی گھنٹی بج گئی

datetime 23  جولائی  2018 |

کراچی (این این آئی) ڈالر کے مقابلے میں روپے کی بے قدری کا سلسلہ جاری ہے اور پیر کو ہفتے کے پہلے کاروباری روز اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت ایک روپے اضافے کیساتھ 131روپے ہو گئی جسے معاشی ماہرین پاکستانی معیشت کے لیے بڑا جھٹکا قرار دے رہے ہیں۔پیر کے روز کاروبار کے آغاز پر اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں پچاس پیسے کا اضافہ ہوا جو ایک روپے تک جا پہنچا اور یوں ڈالر کی قیمت نے تاریخ کی نئی بلند ترین سطح کو چھو لیا۔

انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں 50 پیسے کا اضافہ دیکھنے میں آیا اور ڈالر کی ٹریڈنگ 128 روپے 50 پیسے پر ہوتی رہی۔اس سے پہلے جمعہ کے روز امریکی ڈالر کی قیمت اس وقت ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچی تھی جب اوپن مارکیٹ میں ڈالر 130 روپے کا ہو گیا تھا۔گزشتہ کئی روز سے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی بے قدری کا سلسلہ تواتر کے ساتھ جاری ہے، کاروباری ہفتے کے آخری روز ڈالر کی قدر میں اچانک اضافہ دیکھنے میں آیا تھا اور ڈالر 130 روپے تک پہنچ گیا تھا۔کرنسی ڈیلرز کے مطابق ڈالر کی قیمت میں 30 پیسے کا اضافہ دیکھنے میں آیا جس کے بعد اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت 129.70 سے بڑھ کر 130 روپے تک پہنچ گئی تھی۔کرنسی ڈیلرزکا کہنا ہے کہ ڈالر کی طلب میں اچانک اضافہ ہونے سے اس کی قدر بھی بڑھ گئی ہے، آثار ایسے نظر آ رہے ہیں کہ اس کی قدر میں اضافہ نہ صرف بر قرار رہے گا بلکہ اس میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستانی روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں حیران کن اضافے سے ملک میں مہنگائی کا نیا طوفان آئے گا جب کہ پاکستان کی معاشی مشکلات میں بھی اضافہ ہوگا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان تیل، ایل این جی، کھانے کی اشیا، زرعی اشیا، کوکنگ آئل سمیت کئی چیزیں درآمد کر رہا ہے، اس کے علاوہ سی پیک کے پروجیکٹس کے حوالے سے مشینری بھی درآمد کی جا رہی ہے

جس کے باعث ڈالر کی قدر میں اضافہ قدرتی ہے لیکن اگر پاکستان نے اپنا امپورٹ بل کم کرنے کی کوشش نہ کی اور برآمدات میں اضافہ نہ کیا، پیداواری لاگت کو کم کر کے برآمدات کے لیے اپنی مصنوعات کو عالمی منڈی میں مزید مسابقانہ نہ بنایا اور بنیادی معاشی اصلاحات نہ کیں تو صورت حال ایسی ہی رہے گی۔



کالم



بسنت کے معاملے میں


یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…