بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

استعمال شدہ خام مال سے ہائی بلد پریشر کی ادویات بنائے جانے کا انکشاف ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی ایکشن میں آگئی ،کتنی کمپنیوں کو ادویات واپس لینے کی ہدایت کردی؟

datetime 16  جولائی  2018 |

اسلام آباد(آن لائن)ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے 9 فارماسوٹیکل کمپنیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ ہائی بلڈ پریشر کی ان ادویات کو واپس لیں جو انہوں نے تیار کی ہیں کیونکہ ان ادویات میں استعمال شدہ خام مال کینسر کا باعث بن سکتا ہے ۔میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ ہدایت نامہ یورپین میڈیکل ایجنسی سے الرٹ حاصل کرنے کے بعد جاری کیا گیا ہے ۔ جس میں یہ عندیہ دیا کہ خام مال ناقص اور گندے مواد پر مشتمل ہے ۔ایک عہدیدار نے اپنا نام صیغہ راز میں رکھنے کی شرط پر

بتایا ہے کہ اگرچہ ہدایت نامہ جاری کیا گیا ہے اور فارما سوٹیکل کمپنیوں نے ادویات واپس لینا شروع کر دی ہیں تاہم اس واقعہ نے ڈریپ کی کوتائیوں کو بھی نمایاں کیا ہے کیونکہ پاکستان کے اندر 90 ، 95 فیصد ادویات درآمد شدہ خام مال سے تیار کی جاتی ہیں تاہم خام مال کی کوالٹی چیک کرنے کے لئے کوئی میکزم نہیں ہے ۔ کمپنیاں صرف چند سو روپے ادا کر کے لائسنس حاصل کرتی ہیں ۔ہمیں برطانیہ کا شکرگزار ہونا چاہئے کیونکہ اس  کی وجہ سے ہمیں اس ایشو بارے پتہ چلا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…