بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

افغانستان میں امن و امان سعودی عرب کی ترجیحات میں شامل ہے، شاہ سلمان

datetime 15  جولائی  2018 |

ریاض(انٹرنیشنل ڈیسک)خادم حرمین شریفین نے افغان حکومت اور طالبان سے جنگ بندی اور مذاکرات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پوری امت مسلمہ افغانستان کے امن و امان سے گہری دلچسپی رکھتی ہے، افغانستان میں امن و امان سعودی عرب کی ترجیحات میں شامل ہے، اسلامی دنیا افغانستان میں مستقل امن کیلئے کردار ادا کرے،طالبان مذاکراتی عمل کو قبول کریں۔

سعودی عرب میں دو روزہ بین الاقوامی علما کانفرنس میں پاکستان سمیت سعودی عرب، مصر، انڈونیشیا اور دیگر ممالک کے 105 علما و مشائخ نے شرکت کی۔اس موقع پر شاہ سلمان نے علما کے کردار کو سراہتے ہوئے افغانستان میں باہمی ہم آہنگی اور مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا۔کانفرنس کے 7 نکاتی اختتامی اعلامیہ میں افغانستان میں قیام امن اور باہمی اخوت و بھائی چارے کو فروغ دینے پر زور دیا گیا اور خودکش حملوں کی بھرپور مذمت کی گئی۔اعلامیہ میں افغان حکومت اور طالبان سے جنگ بندی اور مذاکرات کا مطالبہ کیا گیا۔خادم حرمین شریفین نے مسلم علما کی عالمی کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ اسلامی دنیا افغانستان میں مستقل امن کیلئے کردار ادا کرے اور طالبان مذاکراتی عمل کو قبول کریں۔ اسلامی اتحاد کے تحفظ او رتفرقہ و انتشار ترک کرنے کا مشن جاری رکھا جائیگا۔ افغانستان میں امن و امان سعودی عرب کی ترجیحات میں شامل ہے۔ سعودی عرب نے جدہ اور مکہ مکرمہ میں افغانستان سے متعلق منعقد کی جانے والی بین الاقوامی کانفرنس کے انعقاد کے بعد ایک بار پھر اس امر کی تاکید کی کہ پوری امت مسلمہ افغانستان کے امن و امان سے گہری دلچسپی رکھتی ہے۔ اسلامی تعاون تنظیم او آئی سی کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر یوسف العثیمین نے کانفرنس کی میزبانی اور خانہ کعبہ کے پہلو میں اس کے انعقاد پر خادم حرمین شریفین کو خراج شکر و تحسین پیش کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…