بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

نواز شریف کو سزا سنائے جانے کے موقع پر اسی مناسب سے کیک بنانے والی پاکستانی خاتون مالا مال ہو گئی، کچھ ہی دنوں میں ایسا کیا ہوگیا؟ حیرت انگیز انکشافات

datetime 14  جولائی  2018 |

دبئی (مانیٹرنگ ڈیسک) احتساب عدالت کی جانب سے 6 جولائی کو جب میاں نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کو سزا سنائی گئی تو اس موقع پر دبئی میں ایک پاکستانی خاتون خدیجہ احمد نے ایک خصوصی کیک تیار کیا جس میں نواز شریف سلاخوں کے پیچھے نظر آتے ہیں،

خدیجہ احمد نے اس کیک کی تصویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کر دی، اس تصویر کے پوسٹ ہوتے ہیں ہزاروں لوگوں نے اسے شیئر کیا، اس پاکستانی خاتون کے وہم و گمان بھی نہیں ہو گا کہ اسے اس سے کتنا فائدہ ہوگا، یہ خصوصی کیک تیار کروانے کے لیے اس خاتون کے پاس آرڈرز کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوگیا اور اس کیک کے یہ آرڈر اتنی بڑی تعداد میں ہیں کہ وہ گاہکوں کی ڈیمانڈ پوری کرنے میں کامیاب نہیں ہو پا رہی ہیں، خدیجہ احمد نے خلیج ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ آئیڈیا میرے شوہر کا تھا لیکن ہم دونوں کو اس کا اندازہ نہیں تھا کہ یہ اتنا مقبول ہو جائے گا، خدیجہ احمد نے بتایا کہ ان لوگوں نے چھ جولائی کو تین کلو کا ایک کیک تیار کیا جو تین سو درہم میں فروخت ہوا، اس موقع پر انہوں نے بتایا کہ وہ کسی سیاسی جماعت کی مخالف یا حمایتی نہیں ہیں مگر ان کے شوہر عمران خان کے حمایتی ہیں اور ان کے کہنے پر ہی یہ کیک تیار کیا تھا۔ خدیجہ احمد اپنے بنائے گئے کیکس کی تصویریں اپنے فیس بک پیج پر پوسٹ کرتی رہتی ہیں، اس کیک کی تصویر پوسٹ ہوتے ہی مقبول ہو گئی، خدیجہ احمد نے بتایا کہ انہیں اس کیک کی تیاری کے لیے اتنی بڑی تعداد میں آرڈر مل رہے ہیں کہ وہ انہیں پورا نہیں کر پا رہی۔ انہوں نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات سے انہیں جو آرڈر مل رہے ہیں انہیں تو وہ کافی حد تک پورا کر رہی ہیں لیکن پاکستان سے موصول ہونے والے آرڈرز اتنی بڑی تعداد میں ہیں کہ انہیں کسی طور پورا نہیں کر پا رہی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…