بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

القدس کی اراضی و املاک اسرائیلوں کو فرخت کرنا حرام ہے ،مفتی اعظم

datetime 14  جولائی  2018 |

مقبوضہ بیت المقدس(انٹرنیشنل ڈیسک)القدس اور دیار فلسطین کے مفتی اعظم الشیخ محمد حسین نے ایک فتویٰ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ القدس کے کسی بھی حصے کو کسی غیرفلسطینی یا غیرمسلم کی ملکیت دمیں دینے اور اس کی سہولت کاری حرام ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق فلسطین کے مفتی اعظم کی جانب سے جاری کردہ فتویٰ میں کہا گیا کہ القدس اور دیار فلسطین کی تمام املاک پر حق

صرف اور صرف مسلمانوں کا ہے۔اس کو کسی غیر مسلم یا غیر فلسطینی کو دینا حرام ہے اور فلسطین پر حملہ کرنے کے مترادف ہے۔فتوے میں کہا گیا کہ ارض فلسطین خراجی اور وقف املاک میں شامل ہے جس کی اسرائیلیوں کو خریدو فروخت شروع حرام ہے،القدس کی اراضی دشمنوں کو دینے والا گناہ گار ہوگا،اراضی کی فروخت کے عوض معاوضہ لینے والے بھی گناہ گار ہوں گے کیونکہ فلسطینی اراضی کے کسی ٹکڑے کو اسرائیلیوں کو شرعا فروخت نہیں کیا جا سکتا ہے۔فتوے میں کہا گیا کہ اسرائیلیوں کو فلسطینی اراضی کا مالک بنانے میں مدد کرنا کفار کیساتھ وفاداری اور اسلام و فلسطینی قوم کیساتھ بد عہدی تصور کی جائیگی،ایسے لوگ ملت اسلام سے خارج،اسلام کے دشمن،اللہ اور اس کے رسول کے خائن اور دین اور وطن کے لیے باعث عار ہوں گے۔مفتی اعظم نے عالم اسلام پر زور دیا کہ وہ اسرائیلیوں کا ہرسطح پر بائیکاٹ کریں، ان کیساتھ لین دین ختم کریں،دشمن کیساتھ ساز باز کرنیوالوں کا بھی بائیکاٹ کریں۔ایسے منافقوں کی نماز جنازہ میں شریک نہ ہوں اور نہ ہی انہیں مسلمانوں کے قبرستانوں میں دفن کریں۔واضح رہے کہ فلسطینی مفتی اعظم کا فتویٰ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دوسری جانب اسرائیلی حکومت مقبوضہ مغربی کنارے اور القدس کی اراضی پر یہودیوں کو مالکانہ حقوق کے دینے کے لیے قوانین سازی پر غور کررہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…