جمعہ‬‮ ، 07 اگست‬‮ 2026 

آئرش سینیٹ میں اسرائیلی مصنوعات پر پابندی کی حمایت‘اسرائیل کی چیخیں نکل گئیں

datetime 13  جولائی  2018 |

ڈبلن (انٹرنیشنل ڈیسک)آئرش سینیٹ نے اس قانون کی حمایت کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں تیار شدہ اسرائیلی مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کر دی جائے گی۔ اسرائیل نے اس اقدام کی مخالفت جبکہ فلسطینیوں نے تعریف کی ہے۔اسرائیل کی جانب سے اس تجویز پر غصے کا اظہار کرتے ہوئے اسے عوامیت پسندانہ، خطرناک اور انتہا پسندانہ اقدام قرار دیا گیا ہے۔

جبکہ فلسطینی رہنماؤں اور تنظیم آزادی فلسطین نے اسے ایک ’’مثبت اقدام‘‘ کہا ہے۔ یہ مجوزہ قانون آئرلینڈ کی ایک آزاد سینیٹر کی طرف سے پیش کیا گیا تھا جبکہ برسر اقتدار جماعت کے علاوہ ملک کی تمام بڑی سیاسی پارٹیوں نے بھی اس کی حمایت کی ہے۔آئرش حکومت کا کہنا تھا کہ اس طرح کا کوئی بھی قدم اٹھانے سے یورپی یونین کے اندر تجارتی رکاوٹیں پیدا ہو جائیں گی جبکہ اس خطے میں آئرلیند کے اثر و رسوخ کو بھی نقصان پہنچے گا۔ آئرش حکومت کا یہ بھی کہنا تھا کہ قبل ازیں یورپی یونین کے کسی بھی رکن ملک نے انفرادی سطح پر ایسا کوئی اقدام نہیں کیا۔ڈبلن کی سنیٹ میں یہ تجویز پیش کرنے سے پہلے اس حوالے سے شدید بحث بھی ہوئی لیکن ’کنٹرول آف اکانومک ایکٹیویٹی‘ نامی اس تجویز کی بیس کے مقابلے میں پچیس ووٹوں سے حمایت کی گئی۔ اب قانون سازی کے لیے اسے سینیٹ کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے گا جبکہ حکومت کی کوشش ہوگی کہ وہ اسے قانون کا درجہ حاصل نہ ہونے دے۔یہ بل پیش کرنے والی سینیٹر فرانسس بلیک کا کہنا تھاکہ شاید ابھی ہمیں طویل راستہ طے کرنا پڑے لیکن میرے خیال میں ہم نے اس کیس کو سب پر واضح کر دیا ہے۔ اس خاتون اور موسیقار سینیٹر کا کہنا تھا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی آبادکاری جنگی جرم ہے۔ ان کا مزید کہنا تھاکہ آئرلینڈ ہمیشہ بین الاقوامی قانون، انسانی حقوق اور انصاف کے ساتھ کھڑا رہے گا۔دوسری جانب آئرلینڈ کے وزیر خارجہ سائمن کووینی نے مشرق وسطیٰ میں جلتی کو ہوا دینے کے خلاف خبردار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھامیں سینیٹ اور اس کے فیصلے کا احترام کرتا ہوں لیکن میں اس سے اتفاق نہیں کرتا۔اسرائیلی وزارت خارجہ کے مطابق اس اقدام کا مشرق وسطیٰ کے لیے سفارتی عمل پر منفی اثر پڑے گا۔ دوسری جانب فلسطینی اتھارٹی نے اس اقدام کا خیرمقدم کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…