ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

متحدہ عرب امارات میں کتنے پاکستانیوں کے اثاثے اور اکاؤنٹس ہیں؟ وہ یہ پیسہ کس قانون کے تحت بیرون ملک لیکر گئے؟سپریم کورٹ میں تفصیلات پیش

datetime 11  جولائی  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) چیف جسٹس پاکستان نے غیر ملکی اثاثہ اکاؤنٹس کیس میں ریمارکس دیئے کہ پیسے کی بیرون ملک منتقلی روکنا اصل مقصد ہے کیونکہ قومی دولت لوٹ کر لوگ باہر چلے گئے،اربوں روپے سوئٹزرلینڈ اور دبئی میں پڑے ہیں، ایف آئی اے بتائے متحدہ عرب امارات میں کتنے پاکستانیوں کے اثاثے ہیں۔

سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے غیر ملکی اکانٹس اثاثہ کیس کی سماعت کی جس سلسلے میں وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے)کے ڈائریکٹر جنرل بشیر میمن اور ڈپٹی اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے۔سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ہم نے حکم دیا تھا بتائیں کتنے لوگوں کے غیر ملکی اکاوئنٹس ہیں؟ اس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ وفاقی حکومت کو رپورٹ فائل کرنے کے لیے وقت دے دیں۔جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ پیسہ لوٹ کر لوگ باہر چلے گئے، جن لوگوں نے غیر ملکی اکاؤنٹس ظاہر نہیں کیے ان کا پتہ چلنا چاہیے، اربوں روپے سوئٹزرلینڈ اور دبئی میں پڑے ہیں، ایف آئی اے بتائے متحدہ عرب امارات میں کتنے پاکستانیوں کے اثاثے ہیں۔ڈی جی ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ متحدہ عرب امارات میں 4221 لوگوں کے اثاثے اور اکانٹس ہیں، 1992 کے قانون کے تحت وہ پیسہ بیرون ملک لے کر گئے۔بشیر میمن نے بتایا کہ کچھ لوگ قانونی طریقے سے پیسہ باہر لے کر گئے، ایسے لوگ بھی ہیں جو کرپشن اور ٹیکس چوری کا پیسہ باہر لے کر گئے، یہ پیسہ یورپ، امریکا اور کینیڈا لے جایا گیا، اسے واپس لانے کے لیے کوئی راستہ نکالنا ہوگا، ہمارے پاس میوچل لیگل معاونت کا اختیار نہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ وائٹ کالر کرائم ختم کرنے کیلئے کچھ ہونا چاہیے، قانونی رکاوٹ کو دور کرنے کا راستہ نکالنا پڑے گا، یہی میکنزم بنانا ہے کہ پیسے کو باہر جانے سے روکا جائے، یہ ضروری نہیں کہ باہر جانے والے 200 ڈالرز بھی ظاہر کریں، ایسی غیر مناسب پابندی بھی نہیں لگا سکتے، اصل مقصد پیسے کی بیرون ملک منتقلی روکنا ہے۔عدالت نے وکیل احمر بلال صوفی کو طلب کیا اور چیف جسٹس نے کہا کہ اگر احمر بلال صوفی دستیاب نہیں تو کیس ملتوی کر دیتے ہیں۔بعدا زاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت یکم اگست تک ملتوی کردی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…