جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

ہارون بلور کے والد بشیر بلور کو بھی 2012ء میں خودکش حملے کا نشانہ بنایاگیا تھا، حملے کی ذمہ داری کس نے قبول کی تھی؟ افسوسناک انکشافات

datetime 11  جولائی  2018 |

پشاور(نیوزڈیسک)ہارون بلور کے والد بشیر بلور کو بھی 2012ء میں خودکش حملے کا نشانہ بنایاگیا تھا، 2012ء میں ہارون بلور کے والد عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماء اور سینئر صوبائی وزیر بشیر بلور پر خودکش حملہ ہوا تھا اور اس حملے میں بشیر بلور سمیت نو افراد ہلاک ہوئے تھے۔یہ خود کش حملہ پشاور کے مشہور قصہ خوانی بازار کے گنجان آباد علاقے ڈھکی نعلبندی میں ہوا تھا۔

حملے میں بشیر بلور کے علاوہ ان کے پرائیویٹ سیکرٹری نور محمد، کابلی تھانہ کے ایس ایچ او عبدالستار خٹک اور چھ دیگر افراد کی بھی ہلاکت ہوئی۔خود کش حملے میں بشیر بلور کے علاوہ ان کے پرائیوٹ سیکرٹری نور محمد، کابلی تھانہ کے ایس ایچ او عبدالستار خٹک اور چھ دیگر افراد ہلاک ہوگئے تھے۔اس حملے میں تئیس افراد زخمی بھی ہوئے تھے ،بشیر بلور پر حملے کی تحریک طالبان نے ذمہ داری قبول کی تھی بشیر احمد بلور کا شمار عوامی نیشنل پارٹی کی سینیئر رہنماؤں میں ہوتا تھا۔ خیبر پختون خوا میں بلور خاندان ایک مضبوط کاروباری اور سیاسی خاندان کے طورپر جانا جاتا ہے۔ اس خاندان کے تقریباً تمام افراد اے این پی سے منسلک ہیں۔ مقتول بشیر احمد بلور کے تین بھائی ہیں جن میں دو بھائیوں کا شمار عوامی نیشنل پارٹی کے اہم رہنماؤں میں ہوتا ہے۔ ان کے بڑے بھائی غلام احمد بلور وفاقی وزیر ریلوئے ہیں جبکہ الیاس بلور سینیٹر ہیں۔ ان کے ایک بھائی عزیز احمد بلور کے بارے میں بتایا جاتا ہے وہ سول سروسز میں رہ چکے ہیں۔مرحوم کے دو بیٹے ہارون بلور اور عثمان بلور ہیں ۔ ہارون بلور کو آج خودکش حملے میں شہید کردیاگیا ہے ،بلور خاندان نے ہارون بلور کی شہادت کی تصدیق کردی ہے ۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…