منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

برطانوی ادارے کی پاکستانی برآمد کنندگان کو ری فنانس کی پیشکش،چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباری افراد کو فائدہ ہوگا،تفصیلات جاری

datetime 9  جولائی  2018 |

کراچی(نیوز ڈیسک) برطانوی ادارے پرائماڈالر نے پاکستانی برآمدکنندگان کو آسان شرائط پر ایکسپورٹ ری فنانس کی سہولت فراہم کرنے کی پیشکش کردی ہے ۔برطانوی ادارے کی جانب سے چھوٹے ودرمیانے درجے کے ان برآمدکنندگان کی فہرست مرتب کی جا رہی ہے جو اسٹیٹ بینک اور تجارتی بینکوں کی سخت اور پیچیدہ شرائط کی وجہ سے ایکسپورٹ ری فنانس کی سہولت سے محروم ہیں۔

برطانوی ادارے کے سی ای او گائے ویلینز نے ٹاول مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے دفتر میں برآمدکنندگان کے اجلاس میں بتایا کہ ان کا ادارہ پاکستان کے چھوٹے ودرمیانے درجے کے برآمدکنندگان کی فہرست مرتب کرنے کے بعد ان کے بیرونی خریداروں کی ساکھ کا جائزہ لے گا اور پھر بیرونی خریدارکی برآمدات کی حدکاتعین کرے گا۔انہوں نے بتایا کہ برطانوی ادارے کی جانب سے مرتب کردہ ویلیوایڈڈ ٹیکسٹائل سمیت دیگر تمام شعبوں کے چھوٹے ودرمیانے درجے کے برآمدکنندگان کی فہرست اوران کے بیرونی خریداروں کی درآمدی حد کے مطابق برآمدی کنسائمنٹس کی انوائس ویلیو کا93 فیصد ایکسپورٹ ری فنانس فراہم کیا جائے گا تاہم یہ سہولت امریکی ڈالر، یورو اور برطانوی پانڈ میں فراہم کی جائے گی جبکہ برطانوی ادارہ برآمدکنندگان کو ایکسپورٹ ری فنانس کی سہولت فراہم کرنے کے عوض 0.5 تا 3 فیصد چارجز وصول کرے گا جس میں برآمدی کنسائمنٹس کی انشورنس کوریج کی سہولت بھی میسر کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ بھارت کے علاوہ بنگلہ دیش میں بھی برطانوی ادارہ کامیابی کے ساتھ ایکسپورٹ ری فنانس کی سہولت فراہم کررہا ہے ، برطانوی ادارے سے ری فنانس کی سہولت حاصل کرنے والے پاکستان کے چھوٹے ودرمیانے درجے کے برآمدکنندگان کا اگر کوئی غیرملکی خریدار دیوالیہ ہوجائے تو ان کا سرمایہ محفوظ ہوگا۔ٹی ایم اے کے چیئرمین خالد اقبال نے بتایا کہ برطانوی ادارے کی پاکستان میں ایکسپورٹ ری فنانس کی سہولت کی فراہمی خوش آئند امر ہے

کیونکہ تجارتی بینکوں اور اسٹیٹ بینک کی سخت اور پیچیدہ شرائط کی وجہ سے چھوٹے ودرمیانے درجے کے برآمدکنندگان اس سہولت سے محروم ہیں اور مالیاتی مسائل سے بھی دوچار رہتے ہیں جبکہ بیرونی ممالک میں برآمدکنندگان کے سرمائے کے عدم تحفظ کی وجہ سے چھوٹے و درمیانے درجے کے برآمدکنندگان پاکستان کی برآمدات میں اضافے کے لیے اپنا مطلوبہ حصہ فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…