منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

ایتھوپیا اور اریٹیریا کا دو عشرے بعد سفارتی تعلقات کی بحالی کا اعلان

datetime 9  جولائی  2018 |

ادیس ابابا، نیروبی(انٹرنیشنل ڈیسک)دو پڑوسی افریقی ملکوں ایتھوپیا اور اریٹیریا نے دو عشروں پر محیط مخاصمت ترک کرتے ہوئے دو طرفہ تعلقات اور ایک دوسرے کے ہاں بند سفارت خانے کھولنے کا اعلان کیا ہے۔ایتھوپیا کے وزیراعظم ابی احمد نے گزشتہ روز اریٹیریا کے صدر اسیاس افورقی کے ساتھ ہونے والی ملاقات کی تفصیلات بیان کیں اور کہا کہ دونوں ملکوں نے دو عشرے سے تعطل کا شکار۔

سفارتی تعلقات بحال کرنے کا اعلان کیا ہے۔اتیھوپیا کے سرکاری ٹی وی پر نشرایک بیان میں وزیراعظم احمد کا کہنا تھا کہ بات چیت کے بعد ہم نے ایک دوسرے کے ہاں سفارت خانے کھولنے کا اعلان کیا ہے۔ ٹی وی چینل پر دونوں رہنماؤں کی ملاقات اور مذاکرات کی تصاویر بھی نشر کی گئیں جن میں انہیں ایک دوسرے سے گلے ملتے دیکھا جاسکتا ہے۔وزیراعظم ابی احمد نے کہا کہ ان کے ملک کی بحری گذرگاہیں نہیں ہیں۔ اس لیے وہ اریٹیریا کی بندرگاہ کواستعمال کریں گے۔قبل ازیں دونوں ملکوں کے سرکاری ٹی وی چینلوں پر یہ خبر نشرکی گئی تھی کہ دونوں ملکوں کیسربراہان دو عشرے کے بعد اریٹیریا کے دارالحکومت اسمرہ میں اتوار کے روز ملاقات کررہے ہیں۔ یہ ملاقات دونوں ملکوں کے درمیان بیس سال پر پھیلی جنگ کو ختم کرنے کی طرف اہم پیش رفت قراردی جا رہی ہے۔اریٹیریا کے صدر اسیاس افورقی نے ایتھوپیا کے وزیراعظم ابی احمد کا اسمرہ کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر گرم جوشی سے استقبال کیا جس کے بعد دونوں رہ نما مذاکرات کے لیے صدارتی محل چلے گئے۔خیال رہے کہ جنگ اور پڑوسی ملکوں سے کشیدگی کے باعث اریٹیریا برسوں سے علاقائی تنہائی کا شکار رہا ہے۔ ایتھوپیا کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے بعد اریٹیریا کی علاقائی تنہائی ختم ہونے کی بھی راہ ہموار ہوگی۔ دونوں ملکوں کے درمیان 1990ء کے عشرے میں جنگ چھڑ گئی جس کے نتیجے میں 80 ہزار افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ 2000ء میں دونوں ملکوں کیدرمیان جنگ بندی معاہدہ طے پایا تھا مگر دوطرفہ سفارتی تعلقات بحال نہیں ہوسکے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…