منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

جیت کے بعد طیب اردگان نئی مشکل میں پھنس گئے ،حامی پارلیمنٹ کیلئے حریف سیاسی جماعت پر انحصار کرنا ہوگا،دلچسپ صورتحال

datetime 8  جولائی  2018 |

انقرہ(نیوز ڈیسک) ترکی میں صدارتی انتخابات کے بعد نو منتخب ارکان پارلیمنٹ کی جانب سے حلف اٹھانے کا سلسلہ جاری ہے لیکن صدر طیب اردگان کو پارلیمنٹ میں مجموعی اکثریت حاصل کرنے کے لیے اپنی حریف سیاسی جماعت نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی (ایم ایچ پی) پر انحصار کرنا ہوگا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق طیب اردگان کی حکمراں جماعت جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی (اے کے پی) پارلیمانی انتخابات میں صرف 295 نشستیں حاصل کرسکی تھی جبکہ ایم ایچ پی نے بہترین کارکردگی کی بنیاد پر 49 نشستیں حاصل کیں۔واضح رہے کہ 24 جون کو منعقد صدارتی انتخابات میں طیب اردگان کو 53 فیصد جبکہ ان کے قریبی حریف محرم انسے کو 31 فیصد ووٹ ملے۔ترکی کے نئے آئین کے تحت صدر کو زیادہ اختیارات حاصل ہوں گے جس پر ناقدین کی تنقید کا سلسلہ وفقے وفقے سے جاری ہے۔سیاسی ماہرین کے مطابق ایم ایچ پی، خارجہ پالیسی اور کردش تنازعے پر اے کے پی کو مشکل وقت دے سکتی ہے۔پارلیمنٹ میں اپوزیشن کا کردار سیکولر جماعت ریپبلکن پیپلز پارٹی (سی ایچ پی) ادا کرے گی جس نے 146 نشستیں حاصل کیں تھی۔کردش حامی جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (ایچ ڈی پی) کی اعلیٰ قیادت کو حراست کا سامنا رہا، تاہم اب وہ 7 نشستیں حاصل کرکے دوسری بڑی اپوزیشن بن کر ابھری۔اس سے قبل طیب اردگان نے اپنی پارٹی کو ملک کی سب سے بڑی پارٹی قرار دیا تھا لیکن پارلیمنٹ میں اردگان کو اپنی بالا دستی قائم رکھنے کے لیے کسی ایک سیاسی حریف سے اتحاد کرنا پڑے گا۔خیال رہے کہ ترکی کے انتخابات کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ مقامی شہریوں اور 30 لاکھ دیگر ممالک میں مقیم ترک شہریوں کو حق رائے دہی استعمال کرنے کے لیے رجسٹر کیا گیا تھا۔ترکی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک ساتھ پارلیمانی اور صدراتی انتخابات منعقد ہوئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…