جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

پاکستان کی سیاسی صورتحال ،امریکہ بھی بول پڑا،بڑے مطالبات سامنے رکھ دئیے

datetime 7  جولائی  2018 |

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ میں جنوبی ایشیائی امور کی سربراہ ایلس ویلز نے کہا ہے کہ پاکستان میں سول حکومت کا قیام اور اقتدار کی جمہوری طریقے سے منتقلی ملک کی عظیم کامیابیوں میں سے ایک ہے،واشنگٹن اس کامیابی کے عمل کو جاری دیکھنا چاہتا ہے،پاکستان کیساتھ طالبان کیخلاف موثر اور فیصلہ کن اقدامات کرنے پر بات چیت جاری ہے،اسلام آباد میں سولین اداروں کی مضبوطی چاہتے ہیں۔

حکومت صحافی برادری کو ملکی ترقی سے متعلق رپورٹس جاری کرنے کی اجازت دے،قبائلی علاقوں سے پاکستانی طالبان کو ختم کرنے کے لیے پاکستان نے ہزاروں قربانیوں کا نذرانہ پیش کیا،ہمیں پناہ گزینوں،نارکوٹکس اور سرحدی انتظامات کے بارے میں تحفظات ہیں،پاکستانی قیادت کیساتھ روابط کا مقصد ساتھ مل کر کام کو بڑھاناہے ۔ہفتہ کو امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ میں سربراہ برائے جنوبی ایشیائی امور ایلس ویلز نے دارالحکومت واشنگٹن میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ امریکا پاکستان کیساتھ طالبان کیخلاف ’ موثر اور فیصلہ کن‘ اقدامات کرنے اور افغان مذاکراتی عمل میں شمولیت کیلئے ان کی حوصلہ افزائی کرنے کے معاملے پر بات چیت جاری رکھے ہوئے ہے۔انہوں نے کہا کہ ’ پاکستان میں سول حکومت کا قیام اور اقتدار کی جمہوری منتقلی پاکستان کی بڑی کامیابی میں سے ایک ہے اور ہم اسے جاری دیکھنا چاہتے ہیں‘۔ان کا کہنا تھا کہ ’ہم سویلین اداروں کی مضبوطی چاہتے ہیں اور یہ اس رگ کی طرح ہیں کہ جب ہم پاکستانی قیادت سے رابطہ کرتے ہیں تو ہم اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہیں کیونکہ جب ہمارے پاس شواہد ہوتے ہیں یا پھر ایسے اشارے موجود ہوتے ہیں کہ سول سوسائٹی اور میڈیا مکمل آزادی کے ساتھ یا بغیر کسی دباؤ کے شرکت نہیں کر رہا، کیونکہ یہ بالاخر اس سے روک دے گا جو پاکستان میں ایک کامیاب کہانی ہونی چاہیے۔

اس موقع پر ایلس ویلز نے پاکستانی حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ ہر فرد کو اپنے خیالات کو جمع کرنے اور پر امن طریقے سے ان کا اظہار کرنے کی اجازت دے،ساتھ ہی صحافیوں کومکمل طور پر ملکی ترقی کے لیے رپورٹ کرنے کی اجازت دے،پاکستان کے پاس افغان مذاکراتی عمل سے متعلق مواقع موجود ہیں،وہ سرحد پار دہشتگردی اور افغان حدود سے چلنے والے دہشتگرد گرہوں سے متعلق تحفظات دور کرسکے۔

اسلام آباد کے ساتھ واشنگٹن کے تعلقات قائم رکھنے کی خواہش کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ’ پاکستان کی سول اور عسکری قیادت کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور ہم اس چیز کو فروغ دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ دونوں طالبان قیادت کیخلاف’موثر اور فیصلہ کن‘ اقدامات کریں،بے دخل کریں،گرفتار کریں یا انہیں مذاکرات کی میز پر لائیں۔افغان قیادت کی پاکستان میں موجودگی کے امریکی دعویٰ کو دہراتے ہوئے ایلس ویلز کا کہنا تھا کہ  یہ بالکل واضح ہے کہ ایک باہمی سیاسی مذاکرات کے لیے ایک مستقل رکاوٹ طالبان کی قیادت ہے اور ان میں سے بہت سے افغانستان سے باہر ہیں، جس کی وجہ سے معاونت اور افغان قومی سلامتی فورسز کے دباؤ سے باہر ہیں۔

امریکی حکام نے اسلام آباد کو یاد دہانی کرائی کہ پاکستان کے پاس افغان مذاکراتی عمل میں مواقع موجود ہیں کہ وہ سرحد پار دہشتگردی اور افغان حدود سے چلنے والے دہشتگرد گرہوں سے متعلق تحفظات دور کرسکے۔اس موقع پر انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ قبائلی علاقوں سے پاکستانی طالبان کو ختم کرنے کے لیے پاکستان نے ہزاروں قربانیوں کا نذرانہ پیش کیا‘۔انہوں نے کہا کہ ’انہیں پناہ گزینوں، نارکوٹکس اور سرحدی انتظامات کے بارے میں تحفظات ہیں اور ان تمام مسائل کو مذاکرات کے تناظر میں لیا جاسکتا ہے۔ایلس ویلز کا کہنا تھا کہ  میرے پاکستانی قیادت کے ساتھ روابط کا مقصد ہے کہ ساتھ کام کو بڑھانا اور جنوبی ایشیائی حکمت عملی پیش کرنے کے مواقع دیکھنا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…