جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

نواز شریف اور مریم نواز کوکیسے گرفتار کیا جائے گا؟ نگران حکومت نے دھماکہ خیز اعلان کردیا

datetime 7  جولائی  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) نگران وزیر قانون علی ظفر نے کہا ہے کہ نواز شریف اور مریم نواز کو انٹر پول کے ذریعے وارنٹ جاری ہو نگے۔ برطانیہ سے فلیٹس کی ضبطگی کا کہیں گے۔ نواز شریف کو واپس لانے کے لئے کارروائی نگران حکومت کو کرنا ہو گی۔ نوا ز شریف کو فیصلے کے خلاف برطانوی عدالت جانے کا آپشن ہے۔ نیب نے کیپٹن (ر)صفدر کی گرفتاری کے لئے کارروائی شروع کر دی ہے۔ نیب آئینی اور قانون ادارہ ہے ذرا برابر مداخلت نہیں کریں گے۔

نواز شریف کی جائیداد کی ضبطگی سے جرمانے کی وصولی ہو سکتی ہے۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے نگران وزیر قانون علی ظفر کا کہنا تھا کہ نواز شریف کو واپس لانے کے لئے کارروائی نگران حکومت کو کرنا ہو گی۔ عدالت کے فیصلے پر عمل کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ اگر عدالت گرفتاری کا حکم جاری کرے تو ہمیں عمل کرنا ہو گا۔ نوا زشریف اور مریم نواز کے خلاف وارنٹ جاری ہونگے۔ اگر کوئی برطانوی شہری ہے تو اسے واپس لانا ممکن نہیں ہوتا برطانیہ کے ساتھ مجرم کو تحویل میں لینے کا معاہدہ نہیں ہے۔ برطانیہ سے فلیٹس ضبطگی کا کہیں گے۔ نواز شریف اپنے وکیل کے ذریعے 30 روز کے اندر اپیل دائر کر سکتے ہیں۔ یہ ان کا حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف اور مریم نواز دونوں کے پاسپورٹ پاکستانی ہیں انہیں گرفتار کرنا آسان ہو گا۔ اپیل نوا زشریف کا حق ہے وہ ضمانت اور فیصلے کی معطلی بھی مانگ سکتے ہیں۔ نواز شریف کو فیصلے کے خلاف برطانوی عدالت جانے کا آپشن ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نیب نے کیپٹن (ر) صفدر کی گرفتاری کے لئے کارروائی شروع کر دی ہے ۔ جبکہ نوا زشریف اور مریم نواز کو انٹر پول کے ذریعے وارنٹ جاری ہو نگے۔ دونوں کو برطانوی حکومت کی مدد سے واپس لایا جائے گا۔ نوا زشریف کی جائیداد کی ضبطگی سے جرمانے کی وصولی ہو سکتی ہے۔

ہمیں عدالتی فیصلے پر جلد کارروائی کرنی ہو گی ۔اس وقت نواز شریف جوابدہ ہے اور ہماری ذمہ داری ہے کہ قانون کے تقاضے پورے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو اپیل میں چھوٹ مل جاتی ہے تو یہ الگ بات ہے لیکن جو عدالت کا حکم ہو گا وہ ہم ضرور نبھائیں گے۔ نگران وزیر قانون کا مزید کہنا تھا کہ اگر حسن اور حسین نواز کے پاس پاکستانی پاسپورٹ ہو تو انہیں بھی انٹر پول کے ذریعے گرفتار کرنے میں آسانی ہو گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ میری اطلاعات کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کیپٹن (ر) صفدر کو گرفتار کرنے کے لئے کارروائی شروع کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیب ایک ایسا ادارہ ہے جو قانون کے تحت وجود میں آیا ہے ان تمام صورتحال میں نگران حکومت نیب کے کام میں تھوڑا سا بھی مداخلت نہیں کریں گے کیونکہ مداخلت سے ادارے کمزور ہو جائیں گے اور ہمارا اصول یہ ہے کہ اگر اداروں کو مضبوط کرنا ہے تو مداخلت نہ کریں۔ عدالت میں ٹرائل چل رہا ہے یا فیصلہ آ رہا ہے ہمارا کام ان کو ماننا ہے نہ کہ کسی قسم کی مداخلت کریں۔ خدانخواستہ اس فیصلے سے امن و امان کا مسئلہ خراب ہو جائیں تو ہمیں اس پر قابو پانا ہے یہ ہماری زمہ داری ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…