بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

خیبر پختونخوا میں بلدیاتی امیدوارو ں کو عجیب و غر یب انتخا بی نشا ن الاٹ، امیدوار پریشان

datetime 6  مئی‬‮  2015 |

اسلا م آ با د(نیوز ڈیسک )صوبہ خیبر پختونخوا میں 30 مئی کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں آزاد امیدوار بھی حصہ لے رہے ہیں۔انتخابات میں شریک ان امیدواروں کو انتخابی نشانات دینے کا مرحلہ مکمل ہوگیا ہے لیکن انتخابی نشانات ملنے کے بعد امیدواروں کی اکثریت پریشان ہے۔ضلعی انتظامیہ پشاور کے دفتر میں الیکشن کمیشن کی جانب سے 125 مختلف نشانات کی فہرستیں آویزاں کی گئی ہیں جس میں امیدواروں کے لیے گاجر ، مولی ، پاجامہ ، بچوں کو دودھ پلانے والا فیڈر ، بالیاں، مرغی، مگرمچھ ، ایش ٹرے ، سانپ ، اور چوہے جیسے نشانات بھی شامل ہیں۔ان نشانات پر بلدیاتی امیدواروں نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں جیسے عجیب و غریب نشانات دیے گئے ہیں اس سے ان کی الیکشن مہم پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔ان امیدواروں کا کہنا ہے کہ ایسے نامناسب انتخابی نشانات پر علاقے کے لوگ تو ایک طرف ان کے خاندان والے بھی ان کا مذاق اڑا رہے ہیں اور کچھ امیدوار تو نامناسب نشانات کی وجہ سے انتخابی عمل سے اپنے نام واپس لینے پر بھی غور کرتے دکھائی دیے۔سوات سے ایک امیدوار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ جب انہیں مرغی کا نشان ملا تو ان کے دوست و احباب نے تو ان کا مذاق اڑایا ہی بعض ووٹرز نے کہا ’ہمارے لیے مرغی لاو¿ کیونکہ ہم مرغی کے بدلے مرغی کو ووٹ دیں گےامیدواروں نے سانپ اور چوہے جیسے جانوروں کو بھی انتخابی نشان بنائے جانے پر حیرانی اور تحفظات کا اظہار کیا ہے۔سگریٹ، بوتل یا بھنڈی جیسے نشانات پانے والے بلدیاتی امیدوار اس بات پر بھی پریشان ہیں کہ وہ مہم کے دوران عوام کو انتخابی نشان کے حوالے سے کیا پیغام دے پائیں گے۔صوبائی الیکشن کمیشن کے مطابق خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے لیے 97 ہزار 231 امیدواروں نے کاغذات جمع کرائے ہیں

مزید پڑھئے:دماغ پڑھنے والا کمپیوٹر ایجاد

اور 30 مئی کو الیکشن کے بعدحتمی نتائج کا اعلان سات جون کو کیا جائے گا۔صوبے میں انتخابات کے لیے سکیورٹی انتظامات کو بھی حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ پولنگ کے دن 45 ہزار پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا جائےگا جبکہ فوج اور ایف سی سے بھی سکیورٹی کے لیے مدد لینے کا معاملہ زیرِ غور ہے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…