منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

کینیڈین شہر ی کو 24 بیویوں اور 149 بچے ہونے پر سزا سنا دی گئی ، انتہائی حیران کن اور انوکھی سزا

datetime 29  جون‬‮  2018 |

بگوٹا(نیوز ڈیسک)کولمبیا میں عدالت نے کینیڈین شہری کو 24 بیویاں اور 149 بچے بچے ہونے پر 6 ماہ گھر میں نظربندی کی سزا سنا دی،سزا کے دوران بلیک مور کو 150 گھنٹے اور اولڈر کو 75 گھنٹے کمیونٹی کے لیے بھی خدمات انجام دینا ہوں گی۔ غیر ملکی میڈیا ذرائع کے مطابق کولمبیا میں کینیڈین شہری ونسٹن بلیک مور کی ایک یا دو نہیں بلکہ 24 بیویاں اور 149 بچے ہیں، یہی وجہ ہے کہ زیادہ بیویاں رکھنے پر عدالت نے انہیں گھر میں ہی 6 ماہ تک نظربندی کی سزا سنا دی۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سپریم کورٹ آف برٹش کولمبیا نے ایک سے زائد بیویاں رکھنے کے جرم میں دو افراد کو گھر میں نظربند رہنے کی سزا سنائی ہے، جن میں کینیڈا کے ونسٹن بلیک مور اور جیمز اولڈر شامل ہیں۔ونسٹن بلیک مور کو 24 بیویاں رکھنے کی وجہ سے 6 ماہ تک جبکہ جیمز اولڈر کو 5 بیویاں رکھنے کے جرم میں 3 ماہ تک گھر میں نظر بند رہنے کی سزا سنائی گئی ہے۔سپریم کورٹ آف برٹش کولمبیا کے جسٹس شیری این ڈونگن کا کہنا تھا کہ جب یہ دونوں مرد سخت محنت کریں گے اور قانون کو مانیں گے، تب ہی ان کی رہائی ممکن ہوسکے گی۔ان کا کہنا تھا کہ ان میں سے کچھ بیویوں کی عمر شادی کے وقت 15 سال سے کم تھی، یہی وجہ ہے کہ ابتدائی سزا میں دونوں مردوں کی 12 ماہ تک نگرانی کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے۔جسٹس شیری این ڈونگن نے واضح طور پر بتایا کہ بلیک مور کا 24 شادیاں کرنے کا فیصلہ ذاتی تھا، یہ اقدام ان کے عقائد سے تعلق نہیں رکھتا جب کہ اولڈر کے مذہبی عقائد کے مطابق ایسا ماضی میں ہوا کرتا تھا۔گھر میں نظربندی کے دوران مذکورہ افراد صرف کام کے لیے باہر جا سکتے ہیں یا پھر کسی طبی ایمرجنسی کے لیے باہر نکل سکتے ہیں۔علاوہ ازیں سزا کے دوران بلیک مور کو 150 گھنٹے اور اولڈر کو 75 گھنٹے کمیونٹی کے لیے بھی خدمات انجام دینا ہوں گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…