بدھ‬‮ ، 11 مارچ‬‮ 2026 

سپریم کورٹ کا نجی سکولوں کو گرمیوں کی تعطیلات کی فیس نہ لینے کا حکم ،اگر میں اچھے سکولوں میں نہیں پڑھا ہوتا تو آج کلرک ہوتا، چیف جسٹس

datetime 28  جون‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ نے نجی اسکولوں کو موسم گرما کی تعطیلات کی فیس وصول کرنے سے روک دیا، ساتھ ہی عدالت نے بچوں کے والدین کے لیے پبلک نوٹس جاری کرنے کا حکم دے دیا۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں نجی اسکولوں کی فیسوں سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، اس دوران نجی اسکولوں کی جانب سے شاہد حامد اور سلمان اکرم راجا پیش ہوئے۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم سوچ رہے ہیں کہ حکومت کو کہیں مہنگے نجی اسکولوں کو سرکاری تحویل میں کرلیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ حکومتوں کی نااہلی ہے، جنہوں نے تعلیم کو ترجیح نہیں دی، جتنی فیس نجی اسکول لیتے ہیں، غریب کا بچہ وہاں نہیں پڑھ سکتا۔عدالت عظمی میں سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ نجی اسکولوں میں سرکاری اسکولوں سے زیادہ بچے پڑھ رہے ہیں یا تو ہم خود نجی اسکولوں کی فیسوں کا تعین کردیں یا پھر ریاست پیسے دے کر عام آدمی کے بچوں کو پڑھائے یا پھر ان اسکولوں کو تحویل میں لے۔چیف جسٹس نے کہا کہ تعلیم حاصل کرنا بچوں کا بنیادی حق ہے جبکہ آرٹیکل 25 اے میں تعلیم دینا ریاست کی ذمہ داری ہے اور 16 سال تک مفت تعلیم دینا ریاست کے ذمہ ہے۔دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا کہ اگر میں اچھے اسکولوں میں نہیں پڑھا ہوتا تو آج کلرک ہوتا کیونکہ تعلیم قوم کی ترقی کی بنیاد ہے۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ گرمیوں کی فیس والد کتاب میں ڈال کر دیتے تھے، جو ہم خود جمع کرواتے تھے۔

اس دوران سلمان اکرم راجا کی جانب سے کہا گیا کہ جن نجی اسکولوں کی میں نمائندگی کر رہا ہوں وہ 1500 سے 3 ہزار ماہانہ فیس وصول کر رہے ہیں، اگر 2 ماہ کی فیس نہ لیں تو ہمیں اپنے اسکولوں کو بند کرنا پڑے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اس معاملے پر والدین کو بات سنے بغیر آپ کو ریلیف نہیں دے سکتے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ پہلی مرتبہ زندگی میں گرمیوں کی فیس ادا نہ کرنے والے والدین اور بچوں کو خوشی ہوگی، والدین یہ فیس بچوں کی تفریح پر لگائیں گے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ ہم اس معاملے پر پبلک نوٹس جاری کرنے جارہے ہیں، جس میں والدین سپریم کورٹ میں آکر اس بارے میں بتائیں گے۔سماعت کے دوران نجی اسکول کے وکیل شاہد حامد کو مخاطب کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو پتہ ہے کہ گریڈ 18 کے افسر کی تنخواہ کتنی ہوگی؟اس پر شاہد حامد نے کہا کہ 4 سے 5 لاکھ روپے تک کی ہوگی، مجھے صحیح سے معلوم نہیں ہے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ خدا کا خوف کریں، ایک لاکھ 18 ہزار روپے ان کی تنخواہ ہوتی ہے، آپ کے اسکول میں 3 بچے اس نے پڑھانے ہوں تو 90 ہزار فیس کی مد میں دے گا۔بعد ازاں عدالت نے نجی اسکولوں کو گرمی کی تعطیلات کی فیس وصول کرنے سے روک دیتے ہوئے والدین کے لیے پبلک نوٹس جاری کرنے کا حکم دے دیا۔



کالم



مذہبی جنگ


رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…