منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

امریکا داخلے کی پابندی کا ٹرمپ کا فیصلہ برقرار، امریکی سپریم کورٹ کی توثیق

datetime 27  جون‬‮  2018 |

واشنگٹن(انٹرنیشنل ڈیسک)امریکا کی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے چھ مسلم ممالک کے شہریوں کے امریکا میں داخلے پر پابندی کے حکم نامے کو مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور اختیارات کے تجاوز قرار دیتے ہوئے دائر کی گئیں اپیلوں کو اکثریتی بنیاد پر مسترد کردیا تاہم اس فیصلے کی مخالفت کرنے والے ایک جج نے اپنے اختلافی نوٹ میں اس اقدام کو تاریخی غلطی قرار دے دیا۔امریکی ٹی وی کے مطابق امریکا کی سپریم کورٹ کی جانب سے سنائے گئے۔

اس فیصلے میں 5 ججوں نے صدر کے اقدام کے حق اور 4 نے مخالفت میں فیصلہ دیا، تاہم اس معاملے پر یہ فیصلہ ٹرمپ کی بڑی کامیابی ہے۔امریکی چیف جسٹس جان روبرٹس نے فیصلے میں تحریر کیا کہ صدر کو امیگریشن کے حوالے سے قوانین کا اختیار ہے جبکہ انھوں نے اس اقدام کو مسلمان مخالف قرار دینے کو بھی مسترد کردیا۔انھوں نے فیصلے میں عمومی اور بالخصوص مسلمانوں کے حوالے سے ٹرمپ کے بیانات اور رویے کی توثیق نہیں کی اور کہا کہ ہم نے اس پالیسی کی روح پر کوئی بیان نہیں دیا ہے۔سپریم کورٹ کے اس فیصلے کی مخالفت میں جسٹس سونیا سوتومایور نے کہا کہ تاریخ سپریم کورٹ کے اس غلط فیصلے کو اچھی نظر سے نہیں دیکھے گی اور نہ ہی ایسا کرنا چاہیے۔فیصلے کی مخالفت کرنے والے ججوں میں جسٹس سونیا سوتومایور کے علاوہ جسٹس اسٹیفن بریئر، جسٹس روتھ بیدر گینسبرگ اور ایلیانا کیگن بھی شامل ہیں۔ادھرڈونلڈ ٹرمپ نے عدالت سے فیصلہ آتے ہی ٹویٹر پر اپنے ردعمل میں خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس جان روبرٹس نے 5 اکثریتی معتدل ججوں کا فیصلہ تحریر کیا جس میں ٹرمپ کے نامزد نیل گورسچ بھی شامل ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…