لندن /بیجنگ (نیوزڈیسک)برطانوی اور چینی میڈیا نے کہا ہے کہ چین آئندہ آٹھ سال میں دنیا میں سب سے زیادہ ملٹری ڈرونز بنانے والا ملک بن جائےگا پاکستان ،مصر نائجیریاسمیت دنیا کے نو ممالک چینی ملٹری ڈرونز خریدنے کے خواہشمند ہیں۔ چینی ملٹری ڈرونز کی قیمت صرف دس لاکھ ڈالر ¾اس کے مقابلے میںامریکی ملٹری ڈرون کی قیمت تین کروڑ ڈالر ہے۔ چین میں ملٹری ڈرونز بنانے کے دو سو یونٹس قائم ہیں۔ برطانوی خبر رساں ادارے اور چینی میڈیا کے مطابق چین کی ایوی ایشن انڈسٹری کارپوریشن کو امید ہے وہ2023تک دنیا کے سب سے بڑے ملٹری ڈرون ساز بن جائیں گے۔ ایک تحقیقی ادارے کے اعدادوشما رکےمطابق دنیا بھر میں ملٹری ڈرونز کی پیداواری قدر دو ارب تیس کروڑ ڈالر سے تجازوز کرجائے گی۔ ہتھیاروں کی برآمد کی چینی پالیسیاں واضح اور نمایاں طور پر کم قیمت ہیں جس نے اسرائیل اور امریکا جیسے حریفوں کے لئے مصیبت کھڑی کردی اور ان ممالک کے لئے بھی مشکلات ہیں جو مغربی ممالک سے فوجی ڈرون خریدتے ہیں۔ فوجی طیاروں کی برآمد کی چین کی کامیابی محدود ہے ¾فوجی ڈرون صنعت نے حد سے زیادہ سازگار نتائج برآمد کیے ہیں۔
مزید پڑھئےدنیا کے پانچ امیر ترین کرکٹرز
چینی ساز ونگ لوونگ ڈرونز کی قیمت ایک ملین ڈالر ¾امریکی ساز ایم کیو نائن ریپر کی قیمت تیس ملین ڈالر ہے۔ اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے مطابق چین نے نائجیریا کو 2014میں پانچ ملٹری ڈرونز فراہم کیے اور امکان ہے کہ مسلح ملٹری ڈرون برآمد کرنے میں چین دنیا کا دوسرا ملک بن گیا۔ایک چینی ویب سائیٹ کے مطابق چین کے ملٹری ڈرونز بنانے کے دو سو یونٹس قائم ہیں



















































