ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

پانی کی فراہمی کی کمی ،چیف جسٹس ثاقب نثار نے ازخود نوٹس لے لیا،اب کراچی، لاہور، پشاور تینوں جگہ کیا ہوگا؟بڑا اعلان کردیاگیا

datetime 4  جون‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی)پیر کو چیف جسٹس نے پانی کی فراہمی میں کمی کے ازخود نوٹس کیس کی اسلام آباد میں سماعت 7 جون کو مقرر کرتے ہوئے اٹارنی جنرل، ایڈووکیٹ جنرل،چیئرمین سی ڈی اے اور میئر اسلام آباد کو نو ٹس جاری کردیئے ہیں۔چیف جسٹس آف پاکستان کی جانب سے از خود نوٹس کی سماعت کراچی، لاہور، پشاور اور اسلام آباد رجسٹریز میں ہوگی۔یاد رہے کہ سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہیمیں پانی کی قلت اور ڈیم سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔درخواست گزار بیرسٹر ظفراللہ نے مؤقف اپنایاکہ پاکستان کا

20 فیصد جی ڈی پی پانی پر منحصر ہے، ہم پانی کی ایسی صورتحال کو دیکھتے رہے تو مرجائیں گے، 48 سال ہو گئے ملک میں کوئی ڈیم نہیں بنا۔درخواست گزار کے دلائل پر جسٹس سردار طارق نے ریمارکس دیئے کہ کسی پارٹی کی ترجیحات میں پانی کے مسئلے کاحل نہیں ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کسی پارٹی کے منشور میں بھی پانی کا ذکر نہیں، پانی کے ایشو سے زیادہ کوئی ایشو اہم نہیں، یہ ذہن نشین کر لیں آج سے ہماری ترجیحات میں سب سیاہم پانی ہے، ہم نے اپنے بچوں کو پانی نہ دیا تو کیا دیا؟ پانی ہمارے بچوں کا بنیادی حق ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…