جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

کالا باغ ڈیم کی تعمیر، کس کا کتنا فائدہ کتنا نقصان؟بڑا دعویٰ سامنے آگیا،فیصلہ اب آپ ہی کریں!

datetime 3  جون‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)انڈس ریور سسٹم اتھارٹی ارسا کے سابق ممبر راؤ ارشاد علی خان نے کہا کہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے 88فیصد فائدہ سندھ‘ خیبرپختونخواہ اور بلوچستان کا ہوگا لہٰذا ڈیم کی تعمیر میں رکاوٹ انہی صوبوں کیلئے نقصان کا باعث بن رہی ہے جس سے عوام کی محرومیوں میں آئے دن اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے ایک ملین ایکڑ فٹ پانی کے ذریعے 0.6 اربڈالرکی معاشی سرگرمیاں فروغ پاتی ہیں لیکن ہر سال 30ملین

ایکڑ پانی سمندر میں ضائع کرنے سے سالانہ 18ارب ڈالر کا نقصان ہورہا ہے ۔ 1960ء کی دہائی میں دریائے چناب‘ جہلم اور سندھ سے وابستہ زرعی رقبہ اتنا آباد نہ تھا جس کی وجہ سے بھارتی حکومت نے یہ دریا پاکستان کے حوالے کرنے میں زیادہ مزاحمت نہیں کی تھی تاہم گزشتہ ایک دہائی سے بھارتی حکومت کی طرف سے پاکستانی دریاؤں پر تعمیر کئے جانیوالے ڈیموں کے متنازعہ ڈیزائن پر ہمیں تحفظات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو بھارت کی طرف سے سندھ طاس معاہدہ کی خلاف ورزی سے اتنا نقصان نہیں ہوا جتنا ہماری سیاسی مصلحتوں اور بڑے ڈیم کی تعمیر میں تاخیر سے ہورہا ہے۔ دریاؤں اور آبی ذخیروں سے پانی کی تقسیم پر دوسرے صوبوں کی غلط فہمیوں کی وضاحت کرتے ہوئے راؤ ارشاد علی خان نے کہا کہ اس کا م کی نگرانی ارسا کر رہا ہے لہٰذا پنجاب کا صرف ایک نمائندہ کس طرح پورے سسٹم کو ہائی جیک کرتے ہوئے بقیہ ممبران کو بھی صرف اپنے مفادکے پیچھے لگاسکتا ہے۔ ۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی ڈیم کی فزیبلٹی ماہرین اور انجینئرنگ کا کام ہے لہٰذا سیاسی طور پر ڈیموں کی مخالفت چنداں مناسب نہیں۔ انہوں نے کہاکہ آبادی میں ہونے والے اضافہ کی وجہ سے پاکستان کے 996کیوبک میٹر کے مقابلہ میں بھارت میں فی کس دستیاب پانی کی شرح انتہائی کم ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…