ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

الیکشن کمیشن نے آئندہ عام انتخابات کے لیے 60 نکاتی ضابطہ اخلاق مرتب کر لیا، ضابطہ اخلاق کی اہم تفصیلات سامنے آ گئیں

datetime 30  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد(این این آئی)میڈیا رپورٹ کے مطابق آئندہ عام انتخابات کے لئے 60 نکاتی انتخابی ضابطہ اخلاق مرتب کرلیا گیا ہے جس کی خلاف ورزی پر سزائیں بھی ہوسکتی ہیں۔ ضابطہ اخلاق کے تحت مذہب اور ذات برادری کے نام پر انتخابی مہم چلانے پر پابندی ہوگی، سیاستدانوں کی ذاتی زندگی پر تنقید بھی نہیں کی جاسکے گی۔ ہر سیاسی جماعت کو ہر حلقے میں ایک سے زائد بار جلسے کی اجازت نہیں ہوگی،اس کے علاوہ کار ریلیوں پر بھی پابندی ہوگی۔ضابطہ اخلاق کے مطابق ہوائی فائرنگ اور

اسلحہ کی نمائش پر مکمل پابندی ہوگی، لالچ یا دباؤ ڈال کر امیدوار کو دستبردار کروانا جرم ہوگا، اس کے علاوہ سیاسی جماعتیں، امیدوار اور کارکن میڈیا پر بھی دباؤ نہیں ڈال سکیں گے۔ ضابطہ اخلاق میں قومی اسمبلی کے امیدوار کے لیے اخراجات کی حد 40 لاکھ جب کہ صوبائی اسمبلی کے امیدوار کیلئے 20 لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے، پولنگ کے روز سیاسی جماعت کی ووٹر پرچی پر پابندی ہوگی، امیدوار کی جانب سے پولنگ اسٹیشن پر مقرر کیا گیا ایجنٹ کا متعلقہ حلقہ کا ووٹر ہونا لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…