منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

سعودی ولی عہدشہزادہ سلمان پر قاتلانہ حملے کی خبر سچائی پر مبنی ہے، سعودی شہزادہ سلمان محل کے قریب ہی ایک بینکر میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے تھے اور ۔۔! محمد الماساری کے حیرت انگیز انکشافات

datetime 29  مئی‬‮  2018 |

ریاض(آئی این پی) اسلامک ریوائیول پارٹی کے سیکرٹری جنرل محمد الماساری نے کہا ہے کہ سعودی ولی عہدشہزادہ سلمان پر قاتلانہ حملے کی خبر سچائی پر مبنی ہے، حملے میں زخمی ہونے کی خبر بھی شاہی خاندان کے ایک فرد کے ذریعے ہی سوشل میڈیا تک پہنچی،گولہ باری ڈرون پر نہیں بلکہ حملہ آور گاڑیوں پر کی گئی تھی۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان قاتلانہ حملے میں زخمی ہونے کی وجہ سے منظر عام سے غائب ہیں۔ وہ چند ہفتوں سے منظر عام پر نہیں تھے

جس کی وجہ سے عوام میں ان کے حوالے سے چہ مگوئیوں کا سلسلہ جاری تھا۔ اسلامک ریوائیول پارٹی کے سیکرٹری جنرل محمد الماساری کا لیبانین المیادی ٹی وی چینل سے گفتگو کے دوران کہنا ہے کہ محمد بن سلمان پر حملہ اپریل کے مہینے میں کیا گیا تھا اور ان کے زخمی ہونے کی خبر بھی شاہی خاندان کے ایک فرد کے ذریعے ہی سوشل میڈیا تک پہنچی تھی۔ریاض میں گولہ باری کی کوریج پر موجود ایک صحافی کا کہنا تھا کہ 21 اپریل کو شاہی محل کے باہر گولہ باری کی گئی تھی جس کے بعد سعودی عرب کی سرکاری نیوز ایجنسی کی جانب سے بیان جاری کیا گیا کہ یہ فائرنگ ایک کھلونا ڈرون کو تباہ کرنے کیلئے کی گئی تھی جو شاہی محل کی حدود میں گھس آیا تھا ۔ ان کا کہنا تھا کہ شاہی محل پر ڈرون کے ذریعے حملہ نہیں کیا گیا تاہم چند ایسی گاڑیوں پر گولیاں چلائی گئی تھیں جن سے شاہی محل پر فائرنگ کی گئی تھی۔ اس واقعے کے بعد سعودی شہزادہ سلمان محل کے قریب ہی ایک بینکر میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے تھے جو ان کی حفاظت کیلئے فوج کی جانب سے پہلے ہی قائم کر لیا گیا تھا ۔شاہ سلمان ایک ماہ سے زائد عرصے تک میڈیا کی نظروں سے اوجھل رہے یہاں تک کہ جب گزشتہ ماہ امریکی سیکرٹری سٹیٹ مائیک پومپو نے سعودی عرب کا دورہ کیا تو ان کی شاہ سلمان سے ہونے والی ملاقات کی کوئی تصویر بھی میڈیا سے شیئر نہیں کی گئی، ان کی اسی پراسرار پوشیدگی کی وجہ سے میڈیا سے افواہوں نے گردش کرنا شروع کر دیا تھا کہ کہیں نہ کہیں کچھ گڑبڑ ہے اور سعودی شہزادے سلمان کی صحت کے حوالے سے کچھ نہ کچھ میڈیا سے چھپایا جا رہا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…