منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

چوتھی منزل کی بالکونی سے لٹکتے ہوئے بچے کو گرنے سے بچانے والے غیرقانونی تارک وطن محمود کو بہادری کا انعام، فرانس نے شہریت دینے کے بعد مزید مراعات کا بھی اعلان کردیا

datetime 29  مئی‬‮  2018 |

پیرس(آئی این پی) فرانس نے غیر قانونی تارک وطن کو بہادری کے انعام کے طور پر شہریت دے دی ،محمود نے چوتھی منزل کی بالکونی سے لٹکتے ہوئے بچے کو گرنے سے بچایا تھا، محمودو کو فرانسیسی فائر بریگیڈ میں ملازمت بھی دی جائے گی۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کا کہنا ہے کہ مالی سے تعلق رکھنے والے ایک 22سالہ غیر قانونی تارک وطن کو اسکی ہمت اور

بہادری کا انعام فرانس کی شہریت کے طورپر ملا ہے۔ تفصیلات کے مطابق 22سالہ محمود و غساما نامی نوجوان ایک عمارت کے نیچے سے گزر رہا تھا کہ اچانک اس کی نظر عمارت کی چوتھی منزل کی بالکونی سے لٹکتے ہوئے بچے پر پڑی اور اس نے فوری فیصلہ کرتے ہوئے کسی اسپائڈ ر مین کی طرح تیزی سے اوپر چڑھا اوربچے کو پکڑنے کے بعد بیحد اطمینان سے اتر آیا۔ عینی شاہدین کاکہناہے کہ یہ بچہ گھر میں اکیلا تھا اور اسکے والد قریب ہی کہیں شاپنگ کیلئے گئے تھے۔ ماں بھی گھر میں نہیں تھی۔ بچے کی چیخ سن کر ہمسائے اس کی جانب دوڑے مگر بچے کو بچانا انکے لئے مشکل ہوا۔ تاہم انہوں نے کافی شور مچایا اس وقت تک محمودو ان کے قریب پہنچ چکا تھا اور بچے کی جان بچانے کا کارنامہ بھی اس کے ہاتھ لگا۔ اب اسکی انسانی خدمت ، ہمت اوربہادری کے اعتراف کے طور پر فرانس کی شہریت دیدی گئی ہے۔ صدر مینول میکرون نے اسے یہ اعزاز ایلسی پیلس میں منعقدہ ایک تقریب میں دیا۔ محمودو کو فرانسیسی فائر بریگیڈ میں ملازمت بھی دی جانے والی ہے۔جس علاقے میں یہ واقعہ پیش آیا وہاں رہنے والے افراد نے بھی محمودو کے جذبے اور ہمت دونو ں کو مثالی قرار دیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…