بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

سکول داخلے سے قبل بچے اور بچی کے جسم کے اس حصے کا معائنہ لازمی قرار دیا جائے کیونکہ۔۔پاکستان کے بڑے فلاحی ادارےنےحکومت کو ایسی تجویز پیش کر دی کہ آپ بھی کھل کر اس بات کی حمایت کرینگے

datetime 28  مئی‬‮  2018 |

راولپنڈی (این این آئی)الشفاء ٹرسٹ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر بیسواں بچہ بھینگے پن اور کج نظری کا شکا رہے ۔ ہر سال تیس لاکھ بچوں کیلئے عینکیں چاہیں ۔الشفاء ٹرسٹ کے ڈائریکٹر پراجیکٹس پروفیسر ڈاکٹر طیّب افغانی نے کہاہے کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ داخلے کے وقت بچوں کی آنکھوں کا معائنہ لازمی قرار دے تاکہ کسی قسم کی بیماری کو بروقت کنٹرول میں لایا جاسکے ۔

ڈاکٹر طیّب نے کہا کہ گ الشفا ٹرسٹ آئی ہسپتال نے اسکول سکریننگ پروگرام کے تحت راولپنڈی ڈویژن میں پچیس لاکھ بچوں کا معائنہ کیا،اس ڈیٹا سے اندازہ ہوتا ہے کہ جن بچوں کیلئے عینک لازمی ہوتی ہے ان میں سے صرف بیس فیصدبچے ہی عینک کا استعمال کرتے ہیں باقی پروا نہیں کرتے اور نہ ہی ان کے والدین توجہ دیتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ الشفاء ٹرسٹ اب تک راولپنڈی اور اس کے گردونواح میں پندرہ ہزار اساتذہ کو آنکھوں کے معائنے کی ٹریننگ دے چکا ہے اور ڈیڑھ لاکھ کے لگ بھگ بچوں کو بھینگا پن سے نجات دلائی جا چکی ہے ۔ انہوں نے کہا اگر سولہ برس تک بھینگے پن یا کم نظری یا کج نظری کا علاج نہ کیا جائے تو یہ نقائص عمر بڑھنے کیساتھ پیچیدہ شکل اختیار کر لیتے ہیں اور سولہ سال کے بعد ناقابل علاج ہوچکے ہوتے ہیں جس سے عمر بھر کیلئے آنکھوں کی معزوری بھی ہو سکتی ہے ۔انہوں نے کہا بھینگا پن کے اکثر مسائل پیدائش کے وقت احتیاط نہ برتنے کے سبب ہوتے ہیں ۔ڈاکٹر طیّب نے کہا کہ الشفاء ٹرسٹ کے زیر تعمیر ایشیا کے سب سے بڑے چلڈرن آئی ہسپتال کے فنکشنل ہونے سے ہر روز پانچ سو بچوں کو چیک کیاجاسکے گا۔ ڈاکٹر طیّب نے کہا کہ اندھے پن کی روک تھام کیلئے کم از کم ہر یونین کونسل کی سطح پر ایک کوالیفائڈ آپٹومیٹریسٹ ہونا چاہیے لیکن پاکستان میں ایسے ماہرین بصارت کی بہت کمی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ الشفاٹرسٹ کی آٹھ ٹیمیں ہر وقت سکول سکریننگ کیلیے فیلڈ میں کام کررہی ہوتی ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…