منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

سعودی عرب 2020ء تک طیاروں کے پر زہ جات کی تیاری شروع کردے گا

datetime 27  مئی‬‮  2018 |

ریاض(این این آئی)سعودی عرب کی فوجی سازو سامان تیار کرنے کی ذمہ دار کمپنی سامی نے جدہ شہر میں جہازوں کے بنیادی ڈھانچے اور ان کے اسپئرپارٹس کی تیاری کے لیے کام تیزی سے جاری رکھا ہوا ہے۔ ہوائی جہازوں کی کمپنی اے اے سی سی کے ساتھ مل کر 2020ء تک ہوائی جہازوں کے اسپیرپارٹس کی تیاری شروع کردے گی۔عرب ٹی وی کے مطابق سعودی عرب کی ایئر کرافٹ ایکیوپمنٹ کمپنی

کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر انجینئرمنصور العید نے بتایاکہ فرم 2020ء سے ٹائیفون طیاروں کے اسپیرپارٹس کی تیاری شروع کردے گی تاہم سول طیاروں کے اسپئرپارٹس کی تیاری 2019ء میں شروع ہونے کا امکان ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مقامی سطح پر ہوائی جہازوں کے پرزہ جات کی تیاری سے اخراجات میں کمی، ان کی درآمدات سے منافع کمانے اور قومی پیدواواری صلاحیت میں اضافے کے بے پناہ مواقع پیدا ہوں گے۔ مسلح افواج کو بیرون ملک سے جہازوں کے پرزے منگوانے کی پریشانی ختم ہوگی اور پبلک سیکٹر میں ہزاروں سعودی شہریوں کو روزگار مہیا جا سکے گا۔جدہ میں جہازوں کے پرزہ جات کی تیاری کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں ڈاکٹر منصور العید نے کہا کہ سعودی عرب طیاروں کے پرزہ جات کی تیاری میں جلد خود کفیل ہوجائیگا۔ انہوں نے کہاکہ ہم جہازوں کے ٹائر، ان کے اندر استعمال ہونے والی فریم، جہازوں بڑے، عقبی اور چھوٹے پر تیار کیے جائیں گے۔ جدہ میں تیاری کیبعد انہیں الظہران بھیجا جائے گا جہاں ان میں دوسرے پرزہ جات کی فٹنگ کی جائے گی۔ دیگر پرزہ جات میں بھی زیادہ تر سعودی عرب کے اندر ہی تیار کیے جائیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ تین سال کے دوران ہم نے 450 سعودی شہریوں کو اس شعبے میں روزگار فراہم کیا ہے۔ ہمارے پاس جہازوں کے پرزہ جات اور آلات کی تیاری کے لیے بے پناہ مواقع ہیں۔ ہم مزید شعبوں میں بھی ملازمتیں تخلیقکریں گے۔منصور العید کا کہنا تھا کہ سعودی عرب نہ صرف خود طیاروں کے پرزہ جات میں خود کفیل ہوگا بلکہ ہم علاقائی سطح پر بھی دوسرے ممالک کی بھی اسپئرپارٹس کی تیاری میں مدد کریں گے۔آئندہ دو سال کے دوران سعودی عرب میں قائم ایسے کارخانوں میں سعودی شہریوں کے تناسب کو 62 فی صد سے بڑھا کر 80 فی صد تک لایا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…