رام نگر(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی ریاست اتراکھنڈ میں ایک سکھ پولیس افسر نے ایک مسلم لڑکے کی جان بچانے کا ویڈیو سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہورہا ہے۔ ٹوئٹر پر لوگ ان کی تعریف کرتے نہیں تھک رہے ہیں۔ایک نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق یہ معاملہ 22 مئی 2018 کو رام نگر کے گرجا مندر کے پاس ملنے آئے ایک ہندو مسلم جوڑے کو بھیڑ نے گھیر لیا اور مسلم لڑکے کے ساتھ کھینچا تانی شروع کردی۔
اس معاملے پر جیسے ہی وہاں موجود انسپکٹرگگن دیپ کی نظر پڑی وہ لڑکے کو بچانے آگئے۔ بھیڑ نے ان پر حملہ کرنے کی کوشش کی، لیکن گگن دیپ لڑکے کو بچانے میں کامیاب ہوگئے۔ گگن دیپ کی بہادری کی یہ مثال کیمرے میں محفوظ ہو گئی، اور یہ ویڈیو اب سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔ اس ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ بھیڑ نے مسلم نوجوان سے سوال کئے۔ یہاں تک کی اس کو تھپڑ بھی مارے، لیکن اس سے پہلے کوئی بڑا واقعہ پیش آتا، گگن دیپ نے لڑکے کوباہر نکال لیا۔ ویڈیو میں یہ بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ کچھ لوگ لڑکے سے اس کا آئی ڈی کارڈ بھی مانگ رہے ہیں اور لڑکے کو بچانے کے سبب پولیس کے خلاف نعرے بھی لگارہے ہیں۔اس جوڑے کو بچانے کے بعد گگن دیپ انہیں پولیس تھانے لے گئے اور بعد میں ان کے اہل خانہ کو سونپ دیا۔ گگن دیپ کی اس بہادری کے سبب لوگ ٹوئٹر پر ان کی خوب تعریف کررہے ہیں۔ یہاں تک کی سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے بھی ٹوئٹ کرکے ان کی تعریف کی۔دی پرنٹ نے اپنی رپورٹ میں اس حوالے سے کہا کہ جب پولیس افسر کی ہمت و بہادری کی وجہ سے مشتعل ہجوم مسلم نوجوان کو تشدد کا نشانہ بنانے میں ناکام رہا تو اس نے پولیس کے خلاف نعرے لگانے شروع کر دیئے۔گگن دیپ سنگھ نے بتایا کہ نوجوان کو بچانا میرا فرض تھا۔گگن دیپ سنگھ نے کہا کہ ہجوم کو نوجوان کی مندر میں موجودگی پر اعتراض تھا، نوجوان مسلم تھا اور ایک ہندو لڑکی کے ساتھ موجود تھا،
چونکہ گرجیا مندر کی جگہ خوبصورت اور دریا کنارے ہے اس لیے دونوں اس کے احاطے میں گھوم پھر رہے تھے۔پولیس افسر نے بتایا کہ جب وہاں موجود لوگوں کو پتہ چلا کہ نوجوان مسلمان ہے تو انہوں نے اس کی مندر میں موجودگی پر اعتراض کیا اور بات بڑھتے بڑھتے نوجوان پر تشدد تک پہنچ گئی۔گگن دیپ سنگھ نے بتایا کہ وہ اس مقام سے قریب ہی تعینات تھے اور جب وہ جائے وقوع پر پہنچے تب تک کافی لوگ جمع ہوچکے تھے اور نوجوان کو مار پیٹ رہے تھے جسے انہوں نے بچایا۔
The Sikh police officer today saved one Muslim youth from lynching by Hindu Sangi Mob in Uttrakhand … pic.twitter.com/ylt3eeOiTt
— Owais Shah (@owaistshah) May 24, 2018