منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

کیا آپ جانتے ہیں کہ ہماری زمین پر مجموعی پانی کا کل وزن کتنا ہے اور خشکی کا کیا وزن ہے؟ سائنسدانوں نے پتہ چلانے کیلئے ایسی سیٹلائٹ خلا میں بھیج دی جوانسانی بال کی موٹائی کے دسویں حصے تک کی درست پیمائش کر سکتی ہے

datetime 24  مئی‬‮  2018 |

نیویارک(این این ا)زمین پر موجود پانی کے مجموعی وزن کا اندازہ لگانے کے لیے امریکہ اور جرمنی کا مشترکہ مشن خلا میں روانہ ہو گیا ہے۔ خلا میں بھیجا گیا گریس سیٹلائٹس اْس خلائی جہاز کی جگہ لے گا جس نے گذشتہ سال کام کرنا بند کر دیا تھا۔میڈیارپورٹس کے مطابق پہلے مشن کی طرح یہ سیٹلائٹس بھی زمین کے گرد چکر لگائیں گی اور کمیت میں اتار چڑھاؤ کی وجہ سے کششِ ثقل میں ہونے معمولی تبدیلی کا پتہ لگانے کی کوشش کریں گی۔

اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ آیا زیادہ بارشوں اور برف پگھلنے سے زمین پر پانی کی مقدار میں اضافہ تو نہیں ہوا۔یہ سیٹلائٹ سپیس ایکس راکٹ کی مدد سے امریکی ریاست کیلفورنیا سے خلا میں روانہ کی گئیں۔گریس مشن نے پہلے 2002 سے 2017 تک کام کیا اور اس کے دوران اْس نے کئی اہم معلومات جمع کیں۔ اسی لیے یہ ناسا کی اہم ترجیح تھی کہ وہ اس مشن کو جاری رکھے۔گریس مشن کے بعد شروع ہونے والے دوسرے مشن میں کئی یورپی ماہرین نے بھی اپنے مشورے دیے ہیں۔ یہ سیٹلائٹ ایئر بس کی فیکٹری میں تیار کی گئی ہیں۔پہلی سیٹیلائٹ زمین کے غیرہموار کششِ ثقل میں گھومتی رہے گی جب کہ دوسری اس سے 220 کلومیٹر پیچھے سفر کرتے ہوئے پہلی سیٹیلائٹ کی مدار میں ایک ملی میٹر کے ہزارویں حصے کی برابر تبدیلیوں پر بھی نظر رکھے گی۔گریس کے پراجیکٹ مینجر نے برطانوی ٹی وی کو بتایا کہ یہ انسانی بال کی موٹائی کا دسواں حصے تک درست پیمائش کر سکتی ہے۔گریس مشن زمین کے پانی کی گردش میں ہونے والی بڑی تبدیلیوں کو محسوس کر سکے گا۔ پانی کی گردش میں بارشوں کے ذریعے سمندروں سے پانی کی زمینی علاقوں میں منتقلی شامل ہے۔گریس کے ذریعے قطبین پر موجود برف کا جائزہ لیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ہر سال انٹارکٹیکا میں 120 ارب ٹن برف کم ہو رہی ہے جب کہ گرین لینڈ سے 280 ارب ٹن برف کم ہو رہی ہے۔ قطبین پر برف کم ہونے سے سطحِ سمندر میں اضافہ ہوتا ہے۔

سائنس دانوں کا کہنا تھا کہ اس مشن سے برف کی کمیت میں تغیر کا سراغ لگانے کے بعد اْس میں ہونے نقصان کا پتہ لگایا جائے گا اور یہ جاننے کی کوشش کی جائے گی کہ اس میں کچھ تیزی آئی ہے یا نہیں۔سابقہ مشن میں تبدیلی کا پتہ لگانے کے لیے مائیکرو ویو رینجنگ آلات استعمال کیے گئے تھے۔ نئے سیٹلائٹ میں بھی یہی ٹیکنالوجی استعمال کی جا رہی ہے لیکن اب اس میں لیزر سسٹم بھی نصب کیا گیا ہے۔اس منصوبے کی مجموعی لاگت 52 کروڑ ڈالر ہے اور یہ پانچ سال تک کام کرے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…