جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

’’حکومت کی مدت ختم ہونے میں 6 روز باقی، نگراں وزیراعظم کا انتخاب‘‘ حکومتی خواہش منظر عام پر آگئی؟ وزیراعظم کے معاونِ خصوصی مصدق ملک کا اہم انکشاف

datetime 25  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد(این این آئی)وفاقی حکومت کی آئینی مدت ختم ہونے میں صرف 6 روز باقی رہ گئے ہیں لیکن نگراں وزیراعظم کے انتخاب کے حوالے سے فیصلہ اب تک نہ ہوسکا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ کے درمیان اس حوالے سے 5 ملاقاتیں ہوئیں، لیکن کسی نام پر اتفاق نہ ہوسکا۔خورشید شاہ نے اس معاملے پر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے ساتھ مزید ملاقات کرنے سے انکار کردیا

ہے ان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم ناموں کے معاملے پر اپنی بات سے پھر گئے ہیں ٗ اب یہ معاملہ پارلیمانی کمیٹی میں جانے کا امکان ہے۔دوسری جانب وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ اپوزیشن کے تجویز کردہ نام ایسے نہیں تھے جن پر اتفاق ہوسکتا۔ وزیراعظم نے معاملے پر اپوزیشن لیڈر سے ملاقات کا عندیہ دیا۔اس حوالے سے وزیراعظم کے معاونِ خصوصی مصدق ملک کا کہنا ہے کہ حکومت کی خواہش ہے کہ کوئی ایسا نام نگراں وزیراعطم کے لیے آئے جو غیر متنازع ہو۔انہوںنے کہاکہ امید ہے پارلیمانی کمیٹی میں جانے سے پہلے ہی نگراں وزیراعظم کے لیے کسی اور نام پر اتفاق ہوجائے۔موجودہ حکومت کی آئینی مدت 31 مئی 2018 کو ختم ہو جائے گی جس کے بعد نگراں حکومت آئندہ انتخابات تک اپنی ذمہ داریاں سنبھالے گی۔مروجہ طریقہ کار کے مطابق نگراں وزیراعظم کے انتخاب کے لیے وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کی طرف سے نام سامنے آتے ہیں اور کسی ایک نام پر اتفاق ہونے پر اسے نگراں وزیراعظم نامزد کردیا جاتا ہے۔پہلے مرحلے میں کسی نام پر اتفاق نہ ہونے کی صورت میں نگراں وزیراعظم کے انتخاب کا معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے پاس جاتا ہے اور اگر کمیٹی بھی کسی حتمی نتیجے پر نہ پہنچ سکے تو معاملہ الیکشن کمیشن کے پاس جاتا ہے، جس کے بعد الیکشن کمیشن تجویز کردہ ناموں میں سے کسی ایک موزوں شخص کا انتخاب بطور نگراں وزیراعظم کرتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…