منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

امریکی اتحادی طیاروں نے ایرانی انقلابی گارڈز پر حملہ کردیا، شدید بمباری ،چین اور جرمنی نے ایران سے جوہری معاہدے کے حق میں دھماکہ خیز اعلان کردیا

datetime 25  مئی‬‮  2018 |

واشنگٹن(این این آئی)امریکی سربراہی میں قائم اتحاد کے جنگی طیاروں نے شام کے مرکزی حصے میں شامی فوج کی دو پوسٹوں پر بمباری کی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق لبنان کی عسکریت پسند تنظیم حزب اللہ کے مطابق یہ حملے شام کے وسطی شہر حمص کے شمال مغرب میں واقع توانائی کی تنصیبات کے قریب شامی فوج کی دو پوزیشنوں پر کیے گئے۔ شامی حکومت کے قریبی ذرائع کے مطابق یہ پوسٹیں ایرانی انقلابی گارڈز اور ان کے اتحادیوں کی تھیں۔ ملٹری ذرائع نے بتایاکہ عراق

اور شامی صحرا کے درمیان واقع کئی فوجی پوسٹوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔دریں اثناء جرمن وزیر خارجہ ہائیکو ماس نے اپنے امریکی ہم منصب مائیک پومپیو کے ساتھ ملاقات کے بعد کہا ہے کہ ایرانی جوہری معاہدے کے معاملے پر امریکا اور جرمنی کا نقطہ نظر ایک دوسرے سے متضاد ہے اور اس پر اتفاق کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ہائیکو ماس نے تاہم امریکی وزیر خارجہ کی اس تجویز سے اتفاق کیا ہے کہ امریکا کے علاوہ اس معاہدے میں شریک دیگر یورپی ممالک یعنی جرمنی، فرانس، برطانیہ کے وزرائے خارجہ کے ایک اجلاس میں اس معاملے پر غور کیا جائے۔ امریکا نے ایرانی جوہری معاہدے سے خود کو الگ کرتے ہوئے تہران پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ جرمنی اور یورپی یونین اس معاہدے کو برقرار رکھنے کے حق میں ہیں۔علاوہ ازیں جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے کہا ہے کہ چین اور جرمنی موجودہ ایرانی جوہری معاہدے کے ساتھ کھڑے ہیں۔ میرکل دو روزہ دورے پر چین میں ہیں،غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق چینی وزیر اعظم لی کیچیانگ سے ملاقات کے بعد میرکل نے یہ بیان ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران دیا۔ امریکا 2015 میں ایران کے ساتھ طے پانے والے جوہری معاہدے سے رواں ماہ کے آغاز میں الگ ہو گیا تھا۔ 2005ء میں پہلی مرتبہ چانسلر بننے کے بعد سے میرکل کا چین کا یہ گیارہواں دورہ ہے۔ اپنے اس دورے کے دوران وہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کے فروغ اور چین میں انسانی حقوق کی صورتحال پر بھی بات کر رہی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…