منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

صدام حسین نے اپنے لیے ایک بحری جہاز خصوصی طور پر تیار کروایا، اس کے اندر کیا ہے؟ تصویریں دیکھ کر آپ کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی

datetime 24  مئی‬‮  2018 |

بصرہ(مانیٹرنگ ڈیسک) عراق کے سابق صدر صدام حسین نے اپنے لیے ایک بحری جہاز بصرہ بریز 1981ء میں تیار کروایا، یہ بحری جہاز 82 میٹر طویل ہے، اس جہاز میں وسیع و عریض بیڈ روم،کنگ سائز بیڈ جس کے سرہانے کی لکڑی سونے سے مزین ہے، خوبصورت و آراستہ فرش، عالیشان فرنیچر، کھڑکیوں پر لہراتے ریشمی پردے، کمرے سے ملحقہ باتھ روم جس کے دروازے کا فریم سونے کا ہے، ایسے لگتا ہے کہ یہ کسی بادشاہ کا محل ہے،

اس جہاز کو صدام حسین نے خصوصی طور پر بنوایا تھا لیکن قسمت کی ستم ظریفی دیکھیں کہ صدام حسین اس جہاز پر قدم نہ رکھ سکا۔ اب اس جہاز کو بحری کپتانوں کی آرام گاہ کے طور پر استعمال کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ واضح رہے کہ اس محل نما جہاز میں صدام حسین کے قیام کے لیے انتہائی خوبصورت بیڈ روم اور ملحقہ کمرے بنائے گئے، اس کے علاوہ ایک خوبصورت ڈائننگ روم بھی ہے اور 17 گیسٹ روم بھی ہیں، عملے اور کلینک کے لیے بھی 18 کیبن مختص کیے گئے ہیں۔ اس جہاز کی قیمت اندازے کے مطابق ساڑھے تین ارب روپے پاکستانی بنتی ہے، رپورٹ کے مطابق عراق کی حکومت اس جہاز کو بیچنا چاہتی تھی لیکن کوئی گاہک میسر نہ آیا جس کی وجہ سے یہ جہاز دو سال سے بصرہ یونیورسٹی کے تحقیق کاروں کو آبی حیات کے تحقیق کے لیے دوروں پر لے جانے کے لیے استعمال ہوتا رہا۔ رپورٹ کے مطابق صدام حسین کے لیے اس جہاز کی تیاری اس وقت کی گئی جب ایران عراق کی جنگ جاری تھی، جب یہ جنگ جاری تھی اس وقت سعودی عرب اور عراق کے تعلقات بہت اچھے تھے، عراقی صدر نے اس جہاز کو بمباری سے بچانے کے لیے سعودی عرب بھیج دیا تھا، واضح رہے کہ عراق نے جب 1990ء میں کویت پر چڑھائی کی تو اس کے سعودی عرب سے تعلقات خراب ہو گئے تو یہ جہاز سعودی عرب نے اردن کو دے دیا، جب عراق کو اس جہاز کے بارے میں پتہ چلا کہ وہ فرانس کے تفریحی مقام نائس پہنچ چکا ہے، عراقی حکومت نے اس جہاز کی بازیابی کے لیے مقدمہ درج کیا اور آخر کار عدالت کے حکم پر عراق کو یہ بحری جہاز بصرہ بریز عراق کو واپس مل گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…