جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

نوازشریف ،مریم نواز کو کٹہرے میں بلانے پر شدید برہم،جن لوگوں نے یہ روایت قائم کی انہیں یہ سودا بہت مہنگا پڑے گا،سابق وزیر اعظم کی دھمکی

datetime 24  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد(آئی این پی ) شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس میں بیان قلمبند کراتے ہوئے مریم نواز نے کہا ہے کہ جے آئی ٹی ارکان پر تحفظات سے متعلق میرا بھی وہی موقف ہے جو نواز شریف کا تھا، آئی ایس آئی اور ایم آئی افسران کی جے آئی ٹی میں تعیناتی مناسب نہیں تھی،70 سالہ سول ملٹری جھگڑے کا بھی جے آئی ٹی پر اثر پڑا، عرفان منگی کی تعیناتی کا کیس سپریم کورٹ میں ابھی تک زیر التوا

،میری اطلاعات کے مطابق بریگیڈیئر نعمان سعید ڈان لیکس کی انکوائری کمیٹی کا حصہ تھے جس کی وجہ سے سول ملٹری تنا میں اضافہ ہوا ، سپریم کورٹ نیجے آئی ٹی کے جمع کردہ شواہد کی روشنی میں ریفرنس دائر کرنے کا کہا اور یہ نہیں کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ کو بطور شواہد ریفرنس کا حصہ بنایا جائے،یہ تفتیشی رپورٹ ناقابل قبول شہادت ہے۔ جمعرات کو احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نیب کی جانب سے دائر ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کی ، ریفرنس میں نامزد تینوں ملزمان کمرہ عدالت میں موجود تھے ۔ مریم نواز نے تحریری شکل میں لکھا گیا بیان عدالت کو پڑھ کر سنا یا جس میں مریم نواز نے اپنے بیان کے آغاز پر پاناما کیس کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم اور اس کی رپورٹ پر تنقید کی اور کہا کہ جے آئی ٹی اور جے آئی ٹی رپورٹ اس کیس میں غیر متعلقہ ہیں جب کہ آئی ایس آئی اور ایم آئی افسران کی جے آئی ٹی میں تعیناتی مناسب نہیں تھی۔مریم نواز نے کہا کہ جے آئی ٹی سپریم کورٹ کی معاونت کے لئے بنائی گئی تھی، اس ریفرنس کے لئے نہیں اور اس کے ارکان پر تحفظات سے متعلق میرا بھی وہی موقف ہے جو نواز شریف کا تھا۔مریم نواز نے کہا کہ سال 2000 میں جے آئی ٹی رکن عامر عزیز بطور ڈائریکٹر بینکنگ کام کر رہے تھے جنہیں پرویز مشرف حکومت نے ڈیپوٹیشن پر نیب میں تعینات کیا۔ مریم نواز نے کہا کہ 70 سالہ سول ملٹری جھگڑے کا بھی جے آئی ٹی پر اثر پڑا، عرفان منگی کی تعیناتی کا کیس سپریم کورٹ میں ابھی تک زیر التوا ہے جنہیں جے آئی ٹی میں شامل کیا گیا۔

نواز شریف کی صاحبزادی نے کہا کہ میری اطلاعات کے مطابق بریگیڈیئر نعمان سعید ڈان لیکس کی انکوائری کمیٹی کا حصہ تھے جس کی وجہ سے سول ملٹری تنا میں اضافہ ہوا۔مریم نواز نے کہا کہ جے آئی ٹی میں تعیناتی کے وقت نعمان سعید آئی ایس آئی میں نہیں تھے، انہیں آٹ سورس کیا گیا کیونکہ ان کی تنخواہ بھی سرکاری ریکارڈ سے ظاہر نہیں ہوتی۔

مریم نواز نے کہا کہ سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کو اختیارات دیے کہ قانونی درخواستوں کو نمٹایا جا سکے، ایسے اختیارات دینا غیر مناسب اور غیر متعلقہ تھا جب کہ جے آئی ٹی کی دس والیوم پر مشتمل خود ساختہ رپورٹ غیر متعلقہ تھی۔بیان قلمبند کراتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ جے آئی ٹی کی خود ساختہ حتمی رپورٹ سپریم کورٹ میں دائر درخواستیں نمٹانے کے لئے تھی ۔

ان درخواستوں کو بطور شواہد پیش نہیں کیا جا سکتا اور یہ تفتیشی رپورٹ ہے جو ناقابل قبول شہادت ہے۔مریم نواز نے کہا کہ سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کے جمع کردہ شواہد کی روشنی میں ریفرنس دائر کرنے کا کہا اور یہ نہیں کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ کو بطور شواہد ریفرنس کا حصہ بنایا جائے۔مریم نواز کے بعد ریفرنس میں نامزد تیسرے ملزم کیپٹن (ر)محمد صفدر اپنا بیان قلمبند کرائیں گے۔

اس سے پہلے  مریم نواز کو کٹہرے میں بلانے پر نواز شریف شدید برہم ہو گئے ۔ سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ یہ نوبت بھی آنی تھی کہ بیٹیوں کو مقدمات میں گھسیٹا جا رہا ہے۔ جن لوگوں نے یہ روایت قائم کی ان کو یہ سودا بہت مہنگا پڑے گا۔ بڑی اوچھی قسم کی روایات قائم کی جا رہی ہیں، ایک باپ کی آنکھوں کے سامنے اس کی بیٹی کٹہرے میں مقدمہ بھگت رہی ہے ،میری بیٹی کا اس مقدمے سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…