منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان میں بیٹی کی جبری شادی میں ملوث برطانوی خاتون مجرم قرار، خاتون نے اپنی 16سالہ بیٹی کو دھوکہ دیکر پاکستان میں اس کی جبری شادی کرائی، برمنگھم کراؤن عدالت،افسوسناک انکشافات

datetime 23  مئی‬‮  2018 |

لندن(این این آئی) برطانوی عدالت نے پاکستانی نڑاد خاتون کو دھوکے سے اپنی بیٹی کی شادی کرانے پر مجرم قرار دے دیا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق برمنگھم کراؤن عدالت نے مقدمہ کی سماعت کی جس میں بتایا گیا کہ خاتون نے اپنی 16 سالہ بیٹی کو دھوکہ دیااور پاکستان میں

اس شخص سے جبری شادی کرادی جس نے تین سال قبل ان کی بیٹی کا ریپ کیا تھاجب وہ برطانیہ سے پاکستان مع اہلخانہ چھٹیاں منانے آئے تھے۔بعدازاں خاتون اپنی بیٹی کے ہمراہ واپس برطانیہ آئیں اور بیٹی کا اسقاطِ حمل کرا دیا۔دوران سماعت وکیل نے جیوری کو بتایا کہ جب لڑکی کی عمر 18 برس کی ہوئی تو ان کی والدہ نے چھٹیاں پاکستان منانے کا بہانہ کیا اور ستمبر 2016 میں لڑکی کی شادی اسی لڑکے سے کرادی۔تاہم برطانیہ پہنچتے کے ہی ہوم آفس نے خاتون کو جنوری 2017 میں حراست میں لے لیا۔خاتون پر الزام تھا کہ انہوں نے اپنی بیٹی کو دھوکہ دے کر جبری شادی کرائی۔کراؤن پراسیکیوشن سروس کے عہدیدار ریڈ واے نے کہا کہ جبری شادی سنگین جرم ہے اور انسانی حقوق کے خلاف ورزی بھی۔اس حوالے سے بتایا گیا کہ جب عدالت نے خاتون کے خلاف فیصلہ سنایا تو حیرانی کے عالم میں نظر آئیں جبکہ ان کی بیٹی پبلک گیلری سے تمام کارروائی دیکھ رہی تھی۔ریڈواے نے کہا کہ متاثرہ لڑکی کی ہمت کی بدولت سنگین جرم سامنے آیا اور اس پر انصاف بھی ملا۔برطانوی قانون میں جبری شادی کا قانون جون 2014 میں تشکیل پایا جو سنگین جرم سمجھا جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…