جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

پاکستان میں اورنج لائن ٹرین منصوبے پر 9 بلین فی کلو میٹر خرچ آیا جبکہ چائنہ میں اسی طرح کے منصوبے پر کتنے بلین کا خرچ آیا ؟حیرت انگیزانکشاف،بڑا قدم اُٹھالیاگیا

datetime 22  مئی‬‮  2018 |

لاہور (آن لائن) میٹرو اورنج ٹرین منصوبے کی اصل لاگت سے متعلق تفصیلات طلب کرنے کے لیے وزیر اعلی پنجاب اور گورنر پنجاب کو خط لکھ دیا گیا خط جوڈیشل ایکٹویزم پینل نامی تنظیم کے سربراہ ایڈووکیٹ اظہر صدیق کی جانب سے لکھا گیا ہے تفصیلات کے مطابق خط کی کاپی

چیئرمین نیب آڈیٹر جنرل پاکستان اور دیگر کو بھجوائی گئی ہیخط میں حکومت پنجاب کی جانب سے اورنج لائن ٹرین منصوبے کی تفصیلات فراہم نہ کرنے سے متعلق سوالات اٹھائے گئے ہیں خط میں دعوی کیا گیا ہے کہ اورنج لائن ٹرین منصوبے کر کل لاگت 250 بلین روپے خرچ آئے خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ وزیراعلی پنجاب کا اورنج لائن ٹرین منصوبے سے متعلق بچت کا دعوی جھوٹ پر مبنی ہے خط میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں اورنج لائن ٹرین منصوبے پر 9 بلین فی کلو میٹر خرچ آیا جبکہ چائنہ میں اسی منصوبے پر 3 بلین کا خرچ آیا خط میں قانونی نقطہ اٹھایا گیا ہے کہ معلومات تک رسائی کے قانون کے تحت منصوبے سے متعلق تمام تر تفصیلات فراہم کی جائیں منصوبے پرآئے اخراجات حکومتی معاہدے اور قرضہ جات کی تفصیلات فراہم کی جائیں خط میں مزید کہا گیا ہے کہ پنجاب حکومت کی جانب سے نیب کو اورنج لائن ٹرین کا ریکارڈ فراہم نہ کرنا منصوبے کی شفافیت پر سوالیہ نشان ہے خط میں کہا گیا ہے کہ درجنوں خط لکھنے کے باوجود معلومات فراہم نہ کی جا رہیں اس خط کے جواب میں بھی معلومات فراہم۔نہ کی گئیں تو عدالت عالیہ سے رجوع کیا جائے گا۔ (ایم خالد)

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…