اتوار‬‮ ، 11 جنوری‬‮ 2026 

پاک بھارت آبی تنازعہ پر پاکستانی حکام کے عالمی بینک سے رابطے ،بھارت کوکتنا حق حاصل ہے؟2013میں ثالثی عدالت نے کیا فیصلہ سنایاتھا؟تفصیلات سامنے آگئیں

datetime 22  مئی‬‮  2018 |

واشنگٹن (آن لائن) بھارت کی جانب سے دریائے نیلم/کشن گنگا پر پانی کے بہاؤ کو کم کرنے کے لیے بنائے گئے ہائیڈرو الیکٹرک منصوبے کے افتتاح کے بعد پاکستان اور بھارت کے درمیان پیدا ہونے والے آبی تنازع پر ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لیے پاکستانی حکام عالمی بینک سے رابطوں میں مصروف ہیں۔ میڈیا رپورٹ سکے مطابق عالمی بینک اور پاکستان کا 4 رکنی وفد مذاکرات کے لیے واشنگٹن پہنچا، تاہم اس معاملے پر ہونے والے مذاکرات کی تفصیل بناتے سے انکار کیا۔خیال رہے کہ

یہ آبی تنازع اگر حل نہیں ہوتا تو پاکستان کو اس کے تباہ کن نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔اس حوالے سے عالمی بینک کی ترجمان علینا کارابان کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر منگل اور بدھ کو ملاقات شیڈول ہے اور ہم اس بارے میں ضرورت کے مطابق اطلاعات بعد میں دیں گے، دوسری جانب پاکستانی وفد کی قیادت کرنے والے اٹارنی جنرل اشتر اوصاف علی نے اس بارے میں میڈیا سے بات کرنے سے گریز کیا۔یہ مذاکرات 4 اہم نکات کے گرد گھومتے ہیں، جن میں کشن گنگا دریا پر قائم ہونے والے ڈیم کی اونچائی، اس میں پانی ذخیرہ کرنے کی حد، پاکستان کا تنازع کو حل کرنے کے لیے ثالثی عدالت کے قیام کا مطالبہ اور اس کے جواب میں بھارت کی جانب سے بین الاقوامی ماہرین سے مدد لینے کا مطالبہ شامل ہے۔تاہم یہاں یہ بات واضح رہے کہ 20 دسمبر 2013 کو ہیگ کی ثالثی عدالت کی جانب سے دیئے گئے فیصلے کی دستاویزات میں دریاؤں کی حفاظت کے لیے پاکستانی کی کوششوں کا تعین کیا گیا تھا۔حتمی اعزاز کے نام سے موجود ثالثی عدالت کی اس دستاویز میں 1960 کے سندھ طاس معاہدے کی گائیڈ لائن کے ذریعے کشن گنگا تنازع کو حل کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔حتمی اعزاز کا یہ تعین کیا گیا تھا کہ بھارت کم از کم 9 کیوبک میٹر فی سیکنڈ (کمک) پانی دریائے نیلم میں داخل کرے گا جو ہمہ وقت کشن گنگا ہائیڈرو پروجیکٹ (کے ایچ ای پی) سے کم ہوگا، جبکہ عدالت نے یہ بھی فیصلہ دیا تھا کہ بھارت یا پاکستان دریائے نیلم پر پانی کے رخ کی تبدیلی کے پہلے 7 سال بعد انڈس واٹر کمیشن یا پھر سندھ طاس معاہدے کے طریقہ کار کی مدد سے اس فیصلے پر دوبارہ غور طلب کر سکتے ہیں۔۔()

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا


والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…