بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

زیادہ دیر تک پڑھتا رہوں تو گلے میں مسئلہ ہو جاتا ہے، نواز شریف نے عدالت میں بیان ریکارڈ کروانے سے معذرت کی تو نیب پراسیکیوٹر نے ایسی بات کہہ دی کہ سابق وزیراعظم نے فوراََ اپنا بیان پڑھنا شروع کر دیا

datetime 22  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کے دوران احتساب عدالت میں نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث اور نیب پراسیکیوٹر کے درمیان تلخ کلامی۔ تفصیلات کے مطابق ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کے دوران احتساب عدالت میں نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث اور نیب پراسیکیوٹر کے درمیان تلخ کلامی ہو گئی۔ نوازشریف نے دوران سماعت کہا کہ میں زیادہ دیر تک

پڑھتا رہوں تو گلے میں مسئلہ ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ میں نے خواجہ صاحب کو پڑھنے کا کہا، میری جگہ بیان خواجہ حارث پڑھ دیتے ہیں اس پر نیب پراسیکیوٹر نے بیان قلمبند کرانے کے طریقہ پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی طریقہ نہیں ہے کہ 6 دن کی لکھی ہوئی کہانی پڑھ کر سناتے رہیں، 342 کے بیان کی منشاء یہ ہے کہ ملزم بیان قلمبند کرائے جس کے دوران قانونی نکات پر وکیل سے مدد لی جاسکتی ہے۔اس موقع پر جج محمد بشیر نے کہا کہ آپ کہنا کیا چاہتے ہیں وہ بتائیں جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ میرا اعتراض عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنا لیا جائے۔نواز شریف نے اس موقع پر کہا کہ میں اس بیان پر قائم ہوں، یہ بیان میں نے خود وکیل خواجہ حارث کی مشاورت سے تیار کیا ہے۔نواز شریف نے کہا کہ میں زیادہ دیر تک پڑھتا رہوں تو گلے میں مسئلہ ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ میں نے خواجہ صاحب کو پڑھنے کا کہا، نیب کو اس پر اعتراض کرنا تھا تو گزشتہ روز کرلیتے۔نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ایسا ہی کرنا ہے تو سوالات وکیل صفائی کو یوایس بی میں دے دیں ،ایسا کرنے سے عدالت کا وقت بھی بچ جائے گا۔نیب پراسیکیوٹر کے اعتراض کے بعد نواز شریف نے خود بیان پڑھنا شروع کیا۔واضح رہے کہ نواز شریف کا بیان مکمل ہونے کے بعد مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کو اپنا بیان قلمبند کروانا ہے۔ گزشتہ سماعت پر نواز شریف نے سپریم کورٹ کے پاناما کیس سے متعلق فیصلے اور جے آئی ٹی کو نامناسب اور غیر ضروری قرار دیا اور عدالت سے استدعا کی کہ جے آئی ٹی کے لکھے گئے باہمی قانونی معاونت (ایم ایل ایز) کی بنیاد پر فیصلہ نہ دیا جائے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…