بدھ‬‮ ، 05 اگست‬‮ 2026 

بھاری بھرکم تنخواہ اور اقامہ بلا وجہ تو نہیں دیا جاتا، خواجہ آصف نااہلی فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرکے نئی مشکل میں پھنس گئے، چونکا دینے والے انکشافات

datetime 21  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی)سابق وزیرِ خارجہ اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے نااہلی فیصلے کے خلاف دائر اپیل کی سماعت میں دبئی میں ملازمت سے متعلق ریکارڈ پیش کردیا گیا۔ پیر کو سپریم کورٹ کے سماعت جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی بینچ نے خواجہ آصف کی اپیل پر سماعت کی۔سماعت کے آغاز میں خواجہ آصف کے وکیل منیر اے ملک کی جانب سے دلائل شروع کیے گئے تو انہوں نے بتایا کہ

انہوں نے اپنے موکل کا تحریری جواب عدالت میں جمع کروادیا۔انہوں نے کہا کہ ہائی کورٹ میں کہا گیا کہ میرے موکل نے دبئی کی ملازمت چھپائی، لیکن پہلے معاہدے کے تحت میرے موکل کی 9 ہزار درہم تنخواہ تھی۔منیر اے ملک نے بتایا کہ 2014 میں خواجہ آصف کی تنخواہ 30 ہزار درہم تھی جبکہ 2017 میں ہونے والے معاہدے کے مطابق یہ تنخواہ 50 ہزار درہم پہنچ چکی تھی۔جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ یہ اضافہ خواجہ آصف کی اعلیٰ خدمات پر کیا گیا یا پھر حکومتی ذمہ داری پر اضافہ کیا گیا؟انہوں نے ایک مرتبہ پھر استفسار کیا کہ کیا خواجہ آصف کا پاکستان میں کوئی کاروبار ہے جس پر منیر اے ملک کا کہنا تھا کہ خواجہ آصف کا پاکستان میں کوئی کاروبار نہیں ہے۔منیر اے ملک کے جواب پر جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دئیے کہ تو پھر تو سرکاری عہدے کا فائدہ اٹھایا گیا۔منیر اے ملک نے موقف اختیار کیا کہ رٹ پٹیشن میں دوبئی بینک اکاؤنٹ چھپانے کا الزام نہیں تھا، بلکہ یہ الزام بعد میں جواب الجواب کے وقت دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ غیر ملکی آمدن پر الیکشن ٹریبونل کا فیصلہ حتمی ہو چکا، اس لیے طے شدہ معاملے پر دوبارہ درخواست قانون کے مطابق نہیں دی جا سکتی۔جسٹس فیصل عرب نے استفسار کیا کہ یہ بتائیں کن حالات میں 62 ون ایف لگایا گیا جس پر منیر اے ملک نے کہا کہ خواجہ آصف پر کرپشن کا الزام نہیں،

اس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ الزام کاغذات نامزدگی میں غلط بیانی کا ہے۔جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ بھاری بھرکم تنخواہ اور اقامہ بلا وجہ تو نہیں دیا جاتا، کچھ تو فائدہ دیکھ کر ہی اتنا بھاری معاوضہ دیا جاتا تھا۔منیر ملک نے کہا کہ کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت خواجہ آصف نہ ایم این اے تھے اور ہی وفاقی وزیر تھے۔جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس دیے کہ دوبارہ حکومت ملی تو ہو سکتا ہے خواجہ آصف دوبارہ وفاقی وزیر ہوں۔بعد ازاں سپریم کورٹ میں خواجہ آصف نااہلی کیس کی سماعت 31 مئی تک ملتوی کردی گئی۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…