پیر‬‮ ، 04 مئی‬‮‬‮ 2026 

بھاری بھرکم تنخواہ اور اقامہ بلا وجہ تو نہیں دیا جاتا، خواجہ آصف نااہلی فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرکے نئی مشکل میں پھنس گئے، چونکا دینے والے انکشافات

datetime 21  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی)سابق وزیرِ خارجہ اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف کی جانب سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے نااہلی فیصلے کے خلاف دائر اپیل کی سماعت میں دبئی میں ملازمت سے متعلق ریکارڈ پیش کردیا گیا۔ پیر کو سپریم کورٹ کے سماعت جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی بینچ نے خواجہ آصف کی اپیل پر سماعت کی۔سماعت کے آغاز میں خواجہ آصف کے وکیل منیر اے ملک کی جانب سے دلائل شروع کیے گئے تو انہوں نے بتایا کہ

انہوں نے اپنے موکل کا تحریری جواب عدالت میں جمع کروادیا۔انہوں نے کہا کہ ہائی کورٹ میں کہا گیا کہ میرے موکل نے دبئی کی ملازمت چھپائی، لیکن پہلے معاہدے کے تحت میرے موکل کی 9 ہزار درہم تنخواہ تھی۔منیر اے ملک نے بتایا کہ 2014 میں خواجہ آصف کی تنخواہ 30 ہزار درہم تھی جبکہ 2017 میں ہونے والے معاہدے کے مطابق یہ تنخواہ 50 ہزار درہم پہنچ چکی تھی۔جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ یہ اضافہ خواجہ آصف کی اعلیٰ خدمات پر کیا گیا یا پھر حکومتی ذمہ داری پر اضافہ کیا گیا؟انہوں نے ایک مرتبہ پھر استفسار کیا کہ کیا خواجہ آصف کا پاکستان میں کوئی کاروبار ہے جس پر منیر اے ملک کا کہنا تھا کہ خواجہ آصف کا پاکستان میں کوئی کاروبار نہیں ہے۔منیر اے ملک کے جواب پر جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دئیے کہ تو پھر تو سرکاری عہدے کا فائدہ اٹھایا گیا۔منیر اے ملک نے موقف اختیار کیا کہ رٹ پٹیشن میں دوبئی بینک اکاؤنٹ چھپانے کا الزام نہیں تھا، بلکہ یہ الزام بعد میں جواب الجواب کے وقت دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ غیر ملکی آمدن پر الیکشن ٹریبونل کا فیصلہ حتمی ہو چکا، اس لیے طے شدہ معاملے پر دوبارہ درخواست قانون کے مطابق نہیں دی جا سکتی۔جسٹس فیصل عرب نے استفسار کیا کہ یہ بتائیں کن حالات میں 62 ون ایف لگایا گیا جس پر منیر اے ملک نے کہا کہ خواجہ آصف پر کرپشن کا الزام نہیں،

اس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ الزام کاغذات نامزدگی میں غلط بیانی کا ہے۔جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ بھاری بھرکم تنخواہ اور اقامہ بلا وجہ تو نہیں دیا جاتا، کچھ تو فائدہ دیکھ کر ہی اتنا بھاری معاوضہ دیا جاتا تھا۔منیر ملک نے کہا کہ کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت خواجہ آصف نہ ایم این اے تھے اور ہی وفاقی وزیر تھے۔جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس دیے کہ دوبارہ حکومت ملی تو ہو سکتا ہے خواجہ آصف دوبارہ وفاقی وزیر ہوں۔بعد ازاں سپریم کورٹ میں خواجہ آصف نااہلی کیس کی سماعت 31 مئی تک ملتوی کردی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)


ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…

گریٹ گیم(دوسرا حصہ)

حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…