جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

اب اگر تحریک انصاف جیت بھی گئی تو اب کوئی الیکشن ماننے کو تیار نہیں ہوگا،بڑی سیاسی جماعت نے قبل از انتخابات ہی نتائج تسلیم نہ کرنے کا اعلان کردیا،وجہ بھی بتادی

datetime 21  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد(این این آئی)قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ عمران خان کا 100 دن کا پروگرام ناقابل عمل ہے اور اگر انہوں نے اس پر عمل کرلیا تو میں سیاست چھوڑ دوں گا۔عمران خان کے 100 دن پروگرام کو ناقابل عمل قرار دیتے ہوئے پارلیمنٹ میں قائدِ حزبِ اختلاف خورشید شاہ نے کہا کہ 100 دن کا پروگرام ہو یا کوئی اور منصوبہ ہو، انتخابات جیت کر اس کا اعلان کیا جاتا ہے

اور یہاں عمران خان نے اس طرح اعلان کیا جیسے یہ الیکشن جیت کربیٹھے ہیں،اور وقت سے قبل ہی 100 دن کا پروگرام طے کرنا اور اسے عوام کے سامنے پیش کرنا دھاندلی کی جانب اشارہ ہے, اب اگر تحریک انصاف جیت بھی گئی تو اب کوئی الیکشن ماننے کو تیار نہیں ہوگا۔خورشید شاہ نے کہا کہ یہ عملی پلان نہیں، الیکشن شوشہ کہہ سکتا ہوں، اور اگر سو دنوں میں عمران خان نے عمل درآمد کردیا تو میں سیاست چھوڑدوں گا، دعوؤں کی کوئی حقیقت بھی ہونی چاہیے، عمران خان کے پاس بہت بڑا موقع تھا کہ وہ اپنے منصوبے کو خیبرپختون خوا میں ثابت کرتے،ان کے پاس ایک صوبہ تھا وہاں عمل کیوں نہیں کیا؟ کے پی میں ترقیاتی کام دیکھ لیں, اسکولوں کی حالت دیکھ لیں، ایک کروڑ نوکریوں کی بات کرنے والے اپنے صوبے میں 5 ہزار افراد کو بھی نوکری نہیں دے سکے۔خورشید شاہ نے کہا کہ عمران خان نے جنوبی پنجاب کا جو لالی پاپ دیا اس میں بھی کوئی حقیقت نہیں، پیپلزپارٹی کے سواکسی جماعت نے عملی طورپرجنوبی پنجاب صوبے کی بات نہیں کی، وزیراعظم سے منگل کو دس گیارہ بجے مشاورتی ملاقات ہو گی، ملاقات میں بھی نگراں وزیراعظم کا اعلان ہو سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…