جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

آشیانہ ہاؤسنگ سکینڈل میں گرفتار احد چیمہ اور ان کی اہلیہ تو سوچ سے بھی زیادہ ’’امیر ‘‘ نکلے،کتنی زمین اور اثاثوں کے مالک ہیں؟چونکا دینے والے انکشافات

datetime 21  مئی‬‮  2018 |

لاہور( این این آئی )احتساب عدالت نے آشیانہ ہاؤسنگ سکینڈل میں گرفتار سابق ڈائریکٹر جنرل لاہور ڈویلپمنٹ کمپنی احد چیمہ اور نجی کمپنی کے مالک شاہد شفیق کو 15روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا ۔ گزشتہ روز احتساب عدالت کے جج نجم الحسن نے کیس کی سماعت کی۔ نیب حکام کی جانب سے سابق ڈی جی ایل ڈی اے احد چیمہ اور نجی کمپنی کے مالک شاہد شفیق کوتین روزہ جسمانی ریمانڈ ختم ہونے پر سخت سکیورٹی میں عدالت کے روبرو پیش کیا گیا ۔نیب پراسکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ

نجی کمپنی کے مالک شاہد شفیق سے تفتیش مکمل کرلی ۔جبکہ احد چیمہ سے آمدن سے زائد اثاثوں سے متعلق تفتیش جاری ہے۔ ۔ نیب پراسیکوٹر نے عدالت کو بتایاکہ احد چیمہ کی اہلیہ کے نام 21 کنال 4 مرلہ زمین پیراگون میں خردیدی گئی جس کی مالیت 7 کروڑ روپے ہے۔دوران تفتیش انکشاف ہوا ہے کہ احد چیمہ کی جانب سے پنجاب کالج ڈیرہ غازی خان میں 4 کروڑ کی انویسٹمنٹ کی گئی اور اسلام آباد میں فلیٹ بھی خریدے گئے جبکہ لیپ ٹاپ سے کوڈ ورڈز میں ٹرانزیکشن بھی ہوئی ، احد چیمہ کے نام کروڑوں روپے کے اثاثہ جات نکلے ۔ نیب پراسیکیوٹر کی جانب سے استدعا کی گئی کہ تفتیش کیلئے احد چیمہ کو 15روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کیا جائے ۔دوران سماعت احد چیمہ کے وکیل نے دلائل دیئے کہ 90روز کے ریمانڈ کے باجود نیب حکام کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کرسکے جس کے باعث آمدن سے زائد اثاثہ جات کا کیس بنا کر ریمانڈ مانگا جارہا ہے جو کہ غیر قانونی ہے۔ جس پر احتساب عدالت نے دونوں جانب سے دلائل مکمل ہونے کے بعد نیب کی جانب سے احمد چیمہ کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے احد چیمہ اور شاہد شفیق کو 15روزہ جوڈیشنل ریمانڈ پر جیل بھجوادیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…