منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

ایران کے جوہری پروگرا م میں اسرائیلی الیکٹرانک کیپسٹر کیپ 180-300 کا استعمال،ایران کو اسرائیلی آلات کب اور کیسے ملے ؟ چونکا دینے والے انکشافات

datetime 19  مئی‬‮  2018 |

تل ابیب (نیوز ڈیسک) اسرائیل نے ترکی پر الزام عائد کیا ہے کہ ترکی نے ایران کو اسرائیلی ساختہ برقی آلات فروخت کیے،اسرائیلی کمپنی کے تیار کردہ الیکٹرانک کیپسٹر کیپ 180-300 کو یورینیم کی افزودگی اور جوہری ہتھیار کی تیاری میں استعمال کیا جاسکتا ہے،تحقیقات جاری ہیں کہ ترکی نے سلامتی کونسل قوانین کی خلاف ورزی تو نہیں کی ۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی کمپنی کے تیار کردہ الیکٹرانک کیپسٹر کیپ 180-300 کو یورینیم کی افزودگی کے عمل اور جوہری ہتھیار کی تیاری میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔

اسرائیل کے سیاسی ذرائع نے مقامی اخبارات کو بتایا ہے کہ ترکی نے ایران کو اسرائیلی ساختہ برقی آلات فروخت کیے ہیں ۔ترکی کی ایک کمپنی نے یہ آلات مقبوضہ بیت المقدس میں قائم ایک اسرائیلی کمپنی سے خرید کیے تھے۔یہ خبر ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیل اور ترکی کے تعلقات میں ایک مرتبہ پھر کشیدگی پیدا ہوگئی ہے اور دونوں نے ایک دوسرے کے سفیر کو بے دخل کردیا ہے۔ترکی نے غزہ میں فلسطینی مظاہرین کے خلاف طاقت کے وحشیانہ استعمال پر اسرائیل کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔اسرائیلی اخبار یدیعوت احرنوت نے جمعرات کو اپنی اشاعت میں اطلاع دی ہے کہ اقوام متحدہ اس امر کی تحقیقات کررہی ہے کہ آیا ترکی نے سلامتی کونسل کی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایران کو برقی آلات بھیجے تھے ۔اس نے لکھا ہے کہ اقوام متحدہ نے اسرائیل کو مزید معلومات فراہم کرنے کا کہا ہے۔ذرائع کے مطابق الیکٹرانک کیپسٹر کیپ 180-300 کو یورینیم کی افزودگی کے عمل اور جوہری ہتھیار کی تیاری میں استعمال کیا جاسکتا ہے ۔یہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی 2015 کی قرارداد 2231 کے تحت بین الاقوامی سطح پر ممنوعہ مواد ہے۔رپورٹ کے مطابق جولائی 2017 میں متحدہ عرب امارات نے مقبوضہ بیت المقدس میں قائم اسرائیلی کمپنی سیلیم پاور کیپسٹرز کے تیار کردہ برقی کیپسٹروں کی ایک کھیپ پکڑی تھی ۔ ذرائع کے مطابق یہ برقی آلات ترکی کی ایک کمپنی کو فروخت کیے گئے تھے۔

اسرائیلی کمپنی کا کہنا ہے کہ ہم دشمن ممالک کو اپنی مصنوعات فروخت نہیں کرتے۔اگر یہ کھیپ ایران پہنچ جاتی تو ترک خریدار ہمیں دھوکا دینے کا مرتکب ہوتا ۔اسرائیلی کمپنی نے اس حوالے سے مزید بیان جاری کرنے سے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کے سابقہ بیان ہی کو حتمی سمجھا جائے۔اس نے اسے پہلے کہا تھا : اس نے ترک کمپنی کی ساکھ کی تصدیق اور قیمت کی پیشگی وصولی کے بعد اس کو یہ برقی آلات فروخت کیے تھے اور اس کو اس امر کی کوئی اطلاع نہیں تھی کہ ان آلات کو آگے ایران کو بھیجا جانا تھا۔اسرائیلی کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے کی مزید کسی بھی تحقیقات میں تعاون کرے گی کیونکہ وہ یہ ثابت کرسکتی ہے کہ اس نے کچھ بھی غلط نہیں کیا تھا اور یہ ترک خریدار کمپنی ہے جس نے فراڈ کا ارتکاب کیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…