بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

آئی چارٹ کے پیچھے چھپی سائنس جانتے ہیں؟

datetime 16  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) بینائی کی کمزوری جانچنے کے لیے جب ڈاکٹر سے رجوع کیا جاتا ہے تو چشمے کے نمبر کے تعین کے لیے ایک چارٹ آنکھوں کے سامنے رکھ دیا جاتا ہے، مگر کیا آپ اس چارٹ کے پیچھے چھپی سائنس کو جانتے ہیں؟ درحقیقت یہ ایک ریاضی کا پیچیدہ مسئلہ ہے جو اس آئی چارٹ کی شکل میں ہماری نظروں کے سامنے رکھا جاتا ہے۔ جو کہ انسانی بینائی کا تجزیہ مخصوص تخمینے کی بنیاد پر کرنے میں مدد دیتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ ہم لوگ دنیا کو کیسے دیکھتے ہیں۔

بینائی کو تحفظ دینے والے 14 بہترین طریقے ایک ویب سائٹ دی ورج نے ایک ویڈیو میں بتایا کہ بینائی جانچنے کے لیے استعمال ہونے والے چارج انسانی بینائی کے ایک پہلو پر توجہ دیتے ہیں یعنی بصری حس کی تیزی کو جاننا۔ اگر آپ نے غور کیا ہو تو ہم لوگ اپنے ارگرد کے ماحول کی باریک تفصیلات دیکھنے کی اہلیت رکھتے ہیں، بالکل کسی کمپیوٹر اسکرین کے ریزولوشن کی طرح، مگر انسانی آنکھ پکسل کی بجائے ڈگری کے پیمانے پر کام کرتی ہے۔ آسان الفاظ میں ہماری آنکھ کے لیے 2 مختلف سمتوں سے 2 پوائنٹس کی جانب آنے والی روشنی کے درمیان فرق کو پکڑنا آسان ہوتا ہے، مگر جب یہ پوائنٹس قریب ہونا شروع ہوجائیں تو بتدریج یہ غیرواضح ہوکر مدغم ہوجاتے ہیں۔ یہ اینگل روشنی کی 2 لکیروں سے بن کر اتنا قریب ہوجاتا ہے کہ ہماری آنکھوں کے لیے ان کا ریزولوشن محدود ہوجاتا ہے۔ صحت مند افراد کی بینائی کسی ڈگری کا 1/16 تک دیکھ لیتی ہے۔ بینائی کی کمزوری کی 6 علامات تو جب ڈاکٹر آئی چارٹ کو پڑھنے کی ہدایت کرتا ہے تو ہمارے بینائی کے سامنے جو الفاظ ہوتے ہیں، ان کا ریزولوشن محدود ہوتا ہے۔ چارٹ کے درمیان میں جو حروف ہوتے ہیں وہ 1/16 ڈگری کے مطابق ڈیزائن کیے گئے ہیں، تو اگر کسی کی نظر تیز ہوگی تو وہ ان الفاظ سے 20 فٹ کی دوری سے بھی سفید خلاءاور سیاہ لیکروں کے درمیان فرق کرنے کے قابل ہوگا۔ آئی چارٹ پر پرفیکٹ 20/20 اسکور کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کی بینائی مثالی ہے، اس کا انحصار رنگوں، کنٹراسٹ اور گہرائی پر ہوتا ہے۔ اسی طرح ہائر ریزولوشن لمٹ ہمیشہ ہی کسی مستقل مسئلے کی علامت نہیں ہوتی۔ ایسے افراد جو اپنے دن اسکرینوں کو گھورتے ہوئے گزارتے ہیں، ان میں کمپیوٹر ویژن سینڈروم نامی مرض ہوسکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…