جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

قرضے معاف کروانے والوں کی شامت!چیف جسٹس نے شاندار حکم سنا دیا، 21کروڑ پاکستانیوں کے دل جیت لئے

datetime 13  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد(سی پی پی) سپریم کورٹ نے بینکوں سے قرضے معاف کرانے والے تمام 222 افراد کو نوٹس جاری کر دیے۔چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے بینکوں سے قرضے معاف کرانے سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت کی۔اس موقع پر اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ گورنر اسٹیٹ بینک نے کمیشن کو سمری جمع کرا دی ہے جس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ گورنر اسٹیٹ بینک خود کہاں ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ 222 افراد نے خلاف ضابطہ قرضے معاف کرائے اور کمیشن نے تمام افراد کے خلاف انکوائری کے لئے سفارش کی۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ان لوگوں نے 84 ارب کے قرضے معاف کروالیے، کسی کی غیر حاضری قبول نہیں کی جائے گی۔عدالت نے بینکوں سے قرضے معاف کرانے والے تمام 222 افراد کو 8 جون تک کے لیے نوٹسز جاری کردیے۔ یاد رہے کہ قرضہ معافی کیس کی 26 اپریل کو ہونے والی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے تھے کہ یہ معاملہ ہمارے پاس 2007 سے زیر التوا ہے، ہمیں رپورٹ چاہیے اور اس کی سفارشات بھی، جنہوں نے سیاسی بنیادوں پر قرض معاف کرائے ان سے وصول کریں گے۔بیرسٹرظفر اللہ نے عدالت کو بتایا کہ محمد خان جونیجو، یوسف رضا گیلانی اور بے نظیر بھٹو، نواز شریف اور چوہدری برادران نے بھی قرض لے کر معاف کرائے ہیں۔اس پر چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کہ جنہوں نے غیرقانونی قرض معاف کرائے ان سے وصول کریں گے، اگر رقم نہیں تو اثاثے فروخت کرکے رقم وصول کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…