منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

استغفر اللہ ۔۔بڑے یورپی ملک میںشراب کی بوتلوں پر کلمہ طیبہ پرنٹ کر دیا گیا ، شراب بنانے والی کمپنی نے یہ بوتلیں خصوصی طور پر کس کام کیلئے تیار کی تھیں؟ افسوسناک خبر

datetime 12  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)روس میں ہونے والے فٹ بال ورلڈ کپ کیلئے خصوصی طور پر تیار کی گئی شراب کی بوتلوں پر کلمہ طیبہ سے مزین سعودی پرچم کی تصاویر نے ہنگامہ کھڑا کر دیا، مسلمانوں کے احتجاج کے بعدشراب بنانے والی کمپنی نے فوری طور پر معافی مانگ لی ۔ تفصیلات کے مطابق روس میں ہونے والے فٹ بال ورلڈ کپ کیلئے جرمنی میں خصوصی طور پر تیار کی گئی

ایک کمپنی کی جانب سے شراب کی بوتلوں پر کلمہ طیبہ سےمزین سعودی پرچم کی تصاویر نے ہنگامہ کھڑا کر دیا ہے ۔شراب کی بوتلوں کی تصاویر منظر عام پر آنے کے بعد مسلمانوں کی جانب سے شدید احتجاج دیکھنے میں آیا تھا جس پر شراب بنانے والی کمپنی نے فوری پر مسلمانوں سے معافی مانگ لی ہے۔ جرمنی کی شراب بنانے والی ایک کمپنی نے فٹ بال ورلڈ کپ میں شرکت کرنے والی تمام 32 ٹیموں کے پرچم بئیر کی بوتلوں پر پرنٹ کیے تھے لیکن سعودی عرب کے پرچم کے حوالے سے اس ادارے کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس کمپنی کے خلاف شکایات درج کروانے والے افراد کا کہنا تھا کہ اس طرح اسلام اور شراب کو آپس میں منسلک کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ آئش باؤم کمپنی کی طرف سے جمعے کے روز ایک معافی نامہ جاری کرتے ہوئے کہنا تھا کہ انہوں نے اپنی یہ اشتہاری مہم ختم کر دی ہے اور بتیس ممالک کے پرچموں والی بئیر کی بوتلوں کی تقسیم بھی روک دی گئی ہے۔کمپنی کی طرف سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق ان کے اس اقدام کا مطلب کسی کی دل آزاری کرنا نہیں تھا۔ یہ کمپنی ایسا گزشتہ کئی برسوں سے کر رہی ہے کہ بئیر کی بوتلوں کے ڈھکنوں پر فٹبال ورلڈ کپ میں شامل ممالک کے پرچم چھاپے جاتے ہیں لیکن سن دو ہزار چھ کے بعد ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ سعودی عرب بھی اس مرحلے تک پہنچا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس مرتبہ سعودی عرب

کا پرچم بھی پرنٹ کیا گیا تھا لیکن کمپنی اس کے مذہبی اور ثقافتی پس منظر سے آگاہ نہیں تھی۔اس کمپنی کی طرف سے فیس بک پر جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق، ’’سعودی عرب کے پرچم کے حوالے سے جاری بحث آزادی اظہار رائے کی حدود سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔ پولیس کے ساتھ مشورے کے بعد ایسی بوتلوں کی مزید پیداوار روک دی گئی ہے تاکہ مزید ایسا جارحانہ عمل نہ ہو۔‘‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…