’’رات بارہ بجے کے بعد وہاں روحوں کی محفل جمتی ‘جس میں مرکزی شخصیت ڈورس ہوتی ‘ گومحفل بہت خاموش ہوتی اور دوسرے فرد کو روحیں دکھائی بھی نہیں دیتی تھیں لیکن کسی طور بھی ان کی موجودگی کو جھٹلا نہیں سکتا کیوں کہ جونہی روحوں کی آمد شروع ہوتی گھر کی فضا بدلنے لگتی اور درجہ حرارت صفر تک آجاتا تھا‘‘ یونانی فلسفی سقراط کو غیب سے آوازیں سنائی دیتی تھیں‘
وہ انھیں رہنماء آوازیں کہتا تھا اور اس کا خیال تھا کہ یہ آوازیں نہ صرف اس کی رہنمائی کرتی ہیں بلکہ مشکل حالات میں اس کے لیے آسانیاں بھی پیدا کرتی ہیں کیوں کہ ان میں ایسے مشورے دیئے جاتے ہیں جو اس کو درپیش مشکل کو حل کرنے کے لیے ہوتے ہیں۔ سقراط کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ کئی کئی دن کسی جگہ ساکت کھڑا ہوجاتا تھا اور ان آوازوں کو سنتا تھا۔ جب اس پر ایتھنز کی حکومت نے مقدمہ چلایا اور اسے موت کی سزا سنائی گئی تو عدالت نے اسے کہا کہ اگر وہ اس پر لگائے گئے الزامات کو تسلیم کرلے اور اپنے گناہوں سے معافی مانگ لے اور یہ وعدہ کرے کہ آئندہ اپنے خیالات کی ترویج نہیں کرے گا تو اسے معاف کیا جا سکتا ہے۔ سقراط نے جواب دیا کہ اسے اب تک ایسا کوئی مشورہ کسی آواز نے نہیں دیا کہ وہ معافی مانگ لے۔ اس لیے وہ ایسا نہیں کرسکتا۔ لیکن سقراط ان آوازوں کو دنیائے اروا ح سے متعلق نہیں سمجھتا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ ان آوازوں کا منبع اس کے اندر ہی کہیں موجود ہے۔ جب کہ اس کے مقابلے میں سینٹ جون آف آرک کا قصہ غالباً اس حوالے سے تاریخ کا سب سے غیر معمولی قصہ ہے۔ سینٹ جون آف آرک کو اب کلیسا نے بھی شہید کا درجہ دے دیا ہے لیکن تب اسے کلیسا ہی نے چڑیل قرار دے کر زندہ جلا کر مار ڈالا تھا۔ سینٹ جون آف آرک 1412ء میں فرانس کے ایک کسان گھرانے میں پیدا ہوئی۔ وہ عام بچوں کی طرح سکول نہیں گئی اور ہمیشہ ناخواندہ ہی رہی۔ تیرا برس کی عمر میں پہلی بار اس نے غیبی آوازیں سنیں جو اسے اس بات کا یقین دلا رہی تھیں کہ وہ اپنے ملک کو دشمنوں سے بچا سکتی تھی۔ یہ وہ دور تھا جب فرانس اور انگلینڈ میں طویل جنگ جاری تھی۔
اسے سو سالہ جنگ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ سترا برس کی عمر میں جون آف آرک نے فرانس کے ولی عہد ڈافن سے ملاقات کی اور اسے اس بات پر قائل کر لیا کہ وہ اس کی مدد کرے اور اسے اپنی فوج میں شامل کرلے۔ اس نے ڈافن کو یقین دلایا کہ اس کو سنائی دینے والی آوازوں کے مطابق فتح فرانس کے ہی مقدر میں ہے اگر فرانس کی فوجیں ویسا ہی کریں جیسا جون آف آرک انہیں کہے گی۔ ڈافن راضی ہوگیا اور اس نے جون آف آرک کو اپنی فوج میں شامل کرکے اسے ایک دستے کی کمان دے دی۔ جون آف آرک تب فوج میں شامل ہوئی جب وہ آرلینز میں انگریزوں کا محاصرہ توڑنے کی کوشش کر رہی تھی۔
اس نے فوج کی حکمت عملی میں تبدیلی کی اور پوری قوت سے حملہ کیا۔ دس روز میں وہ جنگ کا پانسہ اپنے حق میں پلٹنے‘ فرانسیسی فوجیں انگریزوں کا محاصرہ توڑنے اور انھیں شکست دینے میں کامیاب ہوگئی۔ اس کے بعد فتوحات کا سلسلہ شروع ہوا۔ ہر جگہ جون آف آرک کی حکمت عملی نے کام کر دکھایا اور یہ نہایت مؤثر ثابت ہوئی۔ فرانسیسی فوج جون آف آرک کی روحانی قوتوں کی قائل ہوگئی جب کہ وہ خود ایسی کسی طاقت کا دعوی نہیں کرتی تھی بس اسے سینٹ کیتھرین اور سینٹ مارگریٹ کی آوازیں سنائی دیتی تھیں جو اسے مختلف طرح کے مشورے دیتی تھیں اور وہ انھی مشوروں کی روشنی میں حکمت عملی تیار کرتی جو کامیاب ثابت ہوتی۔
جون آف آرک نے ڈافن کو مشورہ دیا کہ اسے سنائی دینے والی آوازیں اسے کہتی ہیں کہ ڈافن کو فرانس کے چارلس ہفتم کے طور پر تاج پوشی کرلینی چاہئے۔ تاہم ڈافن نے اس کے الہامی فہم پر زیادہ بھروسہ نہ کیا اور اس کی حمایت سے ہاتھ کھینچ لیا۔ ایک موقع پر وہ تن تنہا برگنڈی فوجوں کے خلاف سینہ سپر ہوگئی تو برگنڈیوں نے اسے گرفتار کرلیا۔ بس یہیں سے جون آف آرک کے مصائب کا آغاز ہوا۔ انگریزحکومت تو اس کے خلاف تھی ہی‘ برگنڈیوں نے ایک معاہدے کے تحت کچھ مراعات کے لالچ میں جون آف آرک کو انگریزوں کے حوالے کردیا۔ وہاں کلیسا کے پادریوں نے اس پر چڑیل ہونے کا الزام لگایا اور اسے گرفتار کرلیا۔
اس پر مقدمہ چلایا گیا اور عدالت نے اس کے خلاف فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ جون آف آرک کو سنائی دینے والی آوازیں اصل میں شیطان کی ہیں اور یہ کہ جون آف آرک شیطان کی چیلی ہے۔ انہوں نے اسے زندہ جلانے کی سزا دی اور جب آگ نے اس کے لباس جلا ڈالا تو کلیسا کے پادریوں نے وہاں موجود تماشائیوں کو جون آف آرک کے جسم پر شیطانی علامات دکھائیں۔
جون آف آرک کے بارے میں ہمیشہ سے دو آراء موجود رہی ہیں۔ زیادہ تر لوگوں کا خیال تھا کہ وہ ایک سینٹ تھی لیکن کلیسا اس بات کو ماننے سے انکاری تھا۔ تاہم 1920ء میں کلیسا نے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کی اور اس بات پر معذرت کی کہ اس نے جون آف آرک کی روحانی طاقت کو غلط سمجھا اور اسے ایک اندوہناک موت سے دوچار کیا۔ کلیسا نے اسے سینٹ کا خطاب دیا اور اسی لیے اب اسے سینٹ جون آف آرک کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
ظاہر ہے کلیسا کی معذرت جون آف آرک کے مصائب کا مداوا تو نہیں تھی۔ آج علم نفسیات ہمیں بتاتا ہے کہ جون آف آرک نفسیاتی مریضہ تھی لیکن اس بارے میں اب بھی شک نہیں کیا جاتا کہ اسے واقعی آوازیں سنائی دیتی تھیں جن میں اس کے لیے مشاورت موجود ہوتی تھی۔ اس موقع پر شیزوفرینیا کے بارے میں کچھ بات کرنا بے محل نہیں ہوگا۔ شیزوفرینیا ایک نفسیاتی بیماری ہے جو پیرانوئیا یعنی موت کے خوف کی پیچیدہ صورت ہے۔ علم نفسیات ہمیں بتاتا ہے کہ شیزوفرینیا کے مریض کو ایسی آوازیں سنائی دیتی اور ایسے افراد دکھائی دیتے ہیں جو عام لوگوں کو سنائی یا دکھائی نہیں دیتے۔ شیزوفرینیا کے مریض کو ان آوازوں اور افراد کے ذریعے ایسے پیغامات ملتے ہیں
جن میں پیشین گوئیاں کی جاتی ہیں یا مختلف معاملات پر مشورے دیئے جاتے ہیں۔ شیزوفرینیا کا مریض جب یہ کہتا ہے کہ اسے آوازیں سنائی دے رہی ہیں تو یہ اس کا سچ ہوتا ہے ۔ اس بارے میں شک نہیں کیا جا سکتا ۔ وہ انھیں باہر سے آنے والی آوازیں تصور کرتا ہے اور اکثر ان کا تعلق عالم بالا سے جوڑتا ہے۔ علم نفسیات ہمیں بتاتا ہے کہ ان آوازوں کا منبع اس کے اپنے ذہن کی پیچیدگی ہوتی ہے۔ یہ اس کا خبط ہے جو اسے سمجھاتا ہے کہ اسے مارنے کی کوشش کی جا رہی ہے یا اس کا تعاقب کیا جا رہا ہے۔ تاہم اس حوالے سے ایک اور مکتبہ فکر بھی موجود ہے جو ان آوازوں کو مرجانے والے افراد کی روحوں سے جوڑتے ہیں۔
اس مکتبہ فکر کا کہنا ہے کہ ایسے افراد موجود ہیں جن میں اضافی حسیات بیدار ہوجاتی ہیں اور ان میں یہ اہلیت پیدا ہوجاتی ہے کہ وہ عالم بالا میں موجود ارواح سے رابطہ کرسکیں۔ ان افراد کو عامل کہا جاتا ہے۔ جدید دور میں غیبی آوازوں کو سننے کے حوالے سے ڈورس فشر سٹوکس نے دنیا بھر میں شہرت حاصل کی۔ وہ ٹیلی ویژن پر مظاہرے کیا کرتی تھی جسے لاکھوں لوگ بہت اشتیاق سے دیکھا کرتے تھے۔ ڈورس نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ اس کے پاس کوئی روحانی طاقت موجود ہے۔ وہ اسے اپنی اضافی نفسیاتی طاقت سے تعبیر کرتی تھی۔ وہ بہت آسانی سے مرے ہوؤں سے رابطہ کرلیتی تھی اور ان سے ایسی باتیں جان لیتی جو ان کے علاوہ کسی اور کے علم میں نہیں ہوتی تھیں۔ ڈورس کا تعلق ایک غریب گھرانے سے تھا۔
اس کا باپ ایک لوہار تھا۔ جب کہ اس کی ماں لوگوں کے کپڑے دھونے کا کام کرتی تھی۔ دوسری عالمی جنگ کے موقع پر اس نے ایئر فورس میں شمولیت اختیار کی جہاں اس کا خاوند بھی کام کرتا تھا اوروہ پائلٹ تھا۔ اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کے بارے میں ڈورس ایک عمر تک نہیں جان پائی۔ 1944ء میں جب اس کا شوہر ایک فضائی حملے سے واپس نہ آسکا اور اسے اس بارے میں پہلے سے ہی علم ہوگیا تھاتو اس نے اپنی اس صلاحیت کے بارے میں سنجیدگی سے سوچا‘ بعدازاں اس نے ایک موقع پر اپنے باپ کا ہیولہ دیکھا۔ اس کے باپ نے اسے بتایا کہ اس کا خاوند مرا نہیں تھا بلکہ جنگی قیدی کی حیثیت میں زندہ تھا اور یہ کہ اس کا نومولود بیٹا جلد ہی مرجائے گا تو ان دو خبروں سے اسے خوشی بھی ہوئی اور دکھ بھی۔
اس نے اس تجربے کا اپنے جاننے والوں سے ذکر کیا۔ بعدازاں یہ دونوں باتیں ہی درست ثابت ہوئیں تو اس کے ساتھ ساتھ دوسروں نے بھی ڈورس کی ان غیر معمولی قوتوں کو سنجیدگی سے لینا شروع کیا اور اسے مشورہ دیا کہ وہ انھیں بہتر بنانے کی کوشش کرے کیوں کہ ان کی مدد سے وہ بہت سوں کا بھلا کرسکتی تھی۔ ڈورس نے گرجا گھر میں جانا شروع کیا اور اپنا زیادہ سے زیادہ وقت عبادت اور روحانی مشقوں میں بتانا شروع کیا۔ اس سے اس کی صلاحیتوں میں اضافہ ہوا اور اب شعوری طور پر اس کے لیے ممکن ہوگیا کہ وہ دوسروں کے دلوں کا حال جان لے اور روحوں سے رابطہ کرسکے۔
اپنی خود نوشت سوانح حیات ’My Spiritual Experiences‘ میں ڈورس بتاتی ہے کہ کچھ روحیں مسلسل اس سے رابطہ رکھنے کی آرزو مند تھیں۔ وہ ہمیشہ اسے دکھائی دیتی اور مختلف معاملات میں اسے مشورے دیتی تھیں ۔ مثلاً ان میں سے ایک روح ’’لامارا مونوف‘‘ کی تھی جو اس کی دوست بن چکی تھی۔ وہ کسی بھی شخص کو دیکھ کر اسے کان میں سرگوشی کردیتی تھی کہ یہ بس چند دنوں کا مہمان ہے۔ یا وہ کسی مریض کو دیکھ کر اسے بتاتی کہ یہ کب تک ٹھیک ہوجائے گا۔
جوں جوں ڈورس کی شہرت میں اضافہ ہوا‘ اس کے بارے میں شکوک و شبہات بھی بڑھے۔اس کے بارے میں کہا گیا کہ وہ بہت بڑی دھوکے باز ہے اور یہ کہ اسے عوام کے ساتھ فراڈ کرنے کے جرم میں سزا ہونی چاہئے۔ تاہم اس سب کے باوجود اس کی مقبولیت میں کوئی کمی نہیں ہوئی بلکہ وہ وقت کے ساتھ ساتھ بڑھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ڈورس کا انداز بالکل عمومی تھا اور وہ کبھی پوز نہیں کرتی تھی۔ وہ دوسرے عاملوں کے برعکس عام سے کپڑے پہنتی تھی اور اسے کسی طرح کے اوزاروں یا خصوصی سامان کی بھی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔ وہ کہیں کسی محفل میں بیٹھے بیٹھے اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کردینے پر قادر تھی۔
ایک محفل کے دوران ڈورس نے ایک نوجوان کو دیکھ کر کہا کہ تمہاری دادی کو تم سے کچھ شکایت ہے اور کیا تم یہ شکایت سننا چاہو گے۔ نوجوان نے فوراً ہامی بھرلی۔ اس کی دادی کچھ ہی عرصہ پہلے فوت ہوئی تھی۔ ڈورس نے بتایا کہ نوجوان کی دادی کی روح محفل میں موجود ہے اور اس نے اسے بتایا ہے کہ نوجوان نے اس سے کچھ رقم ادھار لی تھی جو اس کے مرنے تک نہیں لوٹائی اور جس کے بارے میں یہ طے ہوا تھا کہ وہ اس رقم کو اپنی ایک دور کی کزن تک پہنچائے گا جس کے بارے میں دادی نے صرف اسی نوجوان کو بتایا تھا۔
نوجوان نے معذرت کی کہ اسے یاد نہیں رہا لیکن وہ اب فوراً ہی اپنا یہ وعدہ پورا کرنے کی کوشش کرے گا۔ تب ڈورس نے اسے بتایا کہ اسے پتا چلا ہے کہ اب اس کی ضرورت نہیں ہے کیوں کہ وہ کزن بھی دو دن پہلے فوت ہوگئی تھی اور جو رقم نوجوان نے اسے پہنچانی تھی‘ وہ اصل میں اس کی دواؤں کے لیے تھی جن کے نہ ہونے کے وجہ سے وہ لڑکی مری۔ اس بات نے محفل پر سوگ کی کیفیت طاری کردی۔ بعدازاں نوجوان نے معلوم کیا تو اسے پتا چلا کہ ڈورس کی بات درست تھی
اور اس کی کزن واقعی دو دن پہلے فوت ہوچکی تھی۔ اس واقعہ کو بنیادبنا کر لندن کے معروف ہفتہ وار جریدے ’The Unexplained‘ نے ایک خصوصی نمبر بھی شائع کیا تھا۔ ڈورس کی اپنی خود نوشت سوانح حیات کے علاوہ اس کی زندگی اور روحانی قوتوں سے متعلق ایک سے زائد کتابیں شائع ہوئیں۔ انھی میں سے ایک کتاب ’The After Death Experience‘ تھی جسے ایان ولسن نے لکھا اور یہ لندن سے 1987ء میں شائع ہوئی۔ ایان ولسن نے ڈورس کے ساتھ ایک سے زائد نشستیں کی تھیں اور وہ اس کے ساتھ کئی ایک محفلوں میں بھی گیا تھا۔
وہ لکھتا ہے کہ ڈورس اپنی ذاتی زندگی میں کہیں زیادہ پراسرار تھی۔ وہ لوگوں کے سامنے سادہ اور عام سی دکھائی دینے کی کوشش کرتی تھی۔ اس کی وجہ شاید یہ تھی کہ وہ اپنی شخصیت کے گرد کوئی ہالہ تعمیر نہیں کرنا چاہتی تھی اور اس کا خیال یہ بھی تھا کہ روحیں اس سے رابطہ کرنے میں آسانی محسوس کرتی تھیں۔ اپنی عام زندگی میں مسلسل روحوں کے نرغے میں رہتی۔ ایان ولسن چند ایک بار اس کے گھر پر بھی گیا اور چند راتیں وہاں بھی رہا۔ اس کا کہنا ہے کہ ڈورس کے گھر میں رہنا ایک آزمائش سے کم نہیں ہوتا کیوں کہ رات کو بارہ بجے کے بعد وہاں روحوں کی محفل جمتی ہے جس میں مرکزی شخصیت ڈورس ہوتی ہے۔
گو یہ بہت خاموش محفل ہوتی ہے اور دوسرے فرد کو روحیں دکھائی بھی نہیں دیتی ہیں لیکن وہ کسی طور بھی ان کی موجودگی کو وہاں جھٹلا نہیں سکتا کیوں کہ جونہی روحوں کی آمد شروع ہوتی گھر کی فضا بدلنے لگتی اور اکثر وہاں کا درجہ حرارت صفر تک آجاتا تھا۔ ڈورس 8مئی 1986ء کو لند ن میں فوت ہوئی۔ ایان ولسن اس سے ملنے گیا تو وہ بولی کہ اسے بس ایک ہی دکھ ہے کہ وہ اپنے ساتھ وفا نہیں کرسکی۔ ’’میں نے لوگوں کی زیادہ پرواہ کی اور اپنے امیج کو بہتر بنانے کے لیے زیادہ زور لگایا‘ میں نے اپنی قوتوں کو بڑھانے کے لیے ریاضت نہیں کی‘‘۔



















































