جمعرات‬‮ ، 20 اگست‬‮ 2026 

میرے اقامہ میں معاوضے کی کوئی بات نہیں، مدینہ کے ایڈوائزری بورڈ کا ممبر رہا، احسن اقبال کا انکشاف

datetime 29  اپریل‬‮  2018 |

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک ) وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ میرے اقامہ میں معاوضے کی کوئی بات نہیں مدینہ منورہ کے ایڈوائزی بورڈ میں شامل تھا ،پی ٹی آئی عدلیہ سے وہ کام لینا چاہتی ہے جو وہ خود نہیں کر سکتی ،دردمندی سے استدعا ہے کہ عدلیہ کو انتخابات سے قبل سیاسی مقدمات کوروک دینا چاہیے ،یہاں بار بار نسخہ اور ڈاکٹر تبدیل کرنے کی بات کی جاتی ہے ،پاکستان کو چلنے دیں ہمیں ان سازشوں کو ناکام بنانا ہے جو ملک کو عدم استحکام سے دوچار کر رہی ہیں۔

ماڈل ٹاؤن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ ہم نے ووٹ کی عزت کیلئے جو جدوجہد شروع کی ہے یہ وہ راستہ ہے جو ملک کی خوشحالی اوراستحکام کا راستہ ہے ۔ملک میں آنکھ مچولی کا کھیل کھیلاجارہاہے جو کسی طرح بھی ملک کے مفاد میں نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے دہشت گردی کے جن کوقابو کیا ،لوڈ شیڈنگ کے بحران پر قابو پایا ،مثبت پالیسیوں سے معیشت میں تیزی آئی ہے جس سے گروتھ تین سے پانچ اعشاریہ تک جا پہنچی ہے ۔ہماری پیداواری صلاحیت بڑھ رہی ہے ،سی پیک انفراسٹرکچر کے منصوبے مکمل ہورہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ عوام نے این اے 120،میں (ن) لیگ کو جتوایا ،چکوال اور لودھراں میں عوام نے کامیابی دی جو اس بات کی علامت ہے کہ عوام اشارے پر نہیں ترقی اور مشاہدے پر ووٹ دیتے ہیں ۔انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پی ٹی آئی کو عدالت میں جانے کی دعوت دیتا ہوں ،میرے اقامہ میں معاوضے کی کوئی بات نہیں مدینہ کے ایڈوائزی بورڈ کا ممبر رہا۔قوم دیکھ رہی ہے وہ سیاسی مقاصد جو پی ٹی آئی بیلٹ کے ذریعے حاصل نہ کر سکی عدلیہ کے ذریعے حاصل کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دردمندی سے اپیل ہے کہ عدلیہ کو انتخابات سے پہلے سیاسی مقدمات کو روک دینا چاہیے کیونکہ جو فیصلے ملک کی بڑی جماعت کے خلاف آ رہے ہیں عدلیہ فریق بن رہی ہے ۔احترام سے کہوں گا کہ انتخابات سے قبل جو فیصلے آ رہے ہیں کیا عدلیہ کو متنازعہ ہونا چاہیے اس سے قومی نقصان ہوگا ۔

اکسی کو عدالت کا کندھا استعمال کرکے سیاست اور انتخابات میں اپنا مقصد پورا نہیں کرنا چاہیے ۔سیاسی تنازعات میں کیا عدلیہ اس کا حصہ رہے گی اس لئے دردمندی سے التجا ہے سپریم کورٹ کو سیاسی کیسز کے فیصلے بعد میں کرنے چاہئیں لیکن اگر وہ کرنا چاہیں تو یہ بھی ان کی صوابدید ہے ۔احسن اقبال نے کہا کہ ملک کی دشمن قوتیں علاقائی ،لسانی ،نسلی اور مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرنے کیلئے کروڑوں روپے خرچ کررہی ہیں ۔جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر علاقائی شناخت دی گئی ،جنوبی پنجاب میں علاقائی فرنٹ کھڑا کر دیا گیا،ہمیں بڑی ہوش اور دانشمندی سے اتحاد کی ضرورت ہے ،سی پیک کے خلاف منصوبوں کو ناکام بناناہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات وقت پر ہوں گی اوراگر کسی نے رکاوٹ ڈالی تو یہ پاکستان کے مستقبل سے کھلواڑ ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…