جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

زیادہ تربوز کھانے کے یہ نقصانات جانتے ہیں؟

datetime 27  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) موسم گرما کا آغاز ہوچکا ہے اور درجہ حرارت بڑھنے پر ہر کسی کو ایسی غذاﺅں کی ضرورت ہوتی ہے جو جسم کو ٹھنڈا رکھ سکے اور پانی کی کمی بھی نہ ہونے دے۔ اور جب جسم میں پانی کی مناسب مقدار برقرار رکھنے اور ٹھنڈک پہنچانے کی بات ہو تو تربوز سے بہتر کیا ہوسکتا ہے۔ اس مزیدار پھل کا 92 فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہوتا ہے اور صحت کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔

تربوز کے 7 زبردست فائدے اس کا ذائقہ ہی زبردست نہیں، اس میں متعدد قدرتی اجزاءجیسے وٹامن اے، بی سکس اور سی، پوٹاشیم، لائیکوپین اور دیگر موجود ہوتے ہیں۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ اسے بہت زیادہ مقدار میں کھانا نقصان پہنچا سکتا ہے۔ ہیضہ اور دیگر مسائل کا خطرہ تربوز پانی کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے اور غذائی فائبر بھی اس کے ذریعے جزوبدن بنایا جاسکتا ہے، مگر اس پھل کی زیادہ مقدار کھانے سے نظام ہاضمہ کے مسائل جیسے ہیضہ، پیٹ پھولنے، گیس وغیرہ کا سامنا ہوسکتا ہے، جس کی وجہ اس میں موجود جز sorbitol ہے جو نظام ہاضمہ میں گڑبڑ کرتا ہے۔ اسی طرح لائیکوپین بھی اس مسئلے کی وجہ بن سکتا ہے۔ گلوکوز لیول بڑھائے اگر تو آپ ذیابیطس کے شکار ہیں تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ زیادہ مقدار میں تربوز کھانا بلڈشوگر لیول بڑھا دے۔ یہ صحت کے لیے فائدہ مند ضرور ہے مگر اس میں گلیسمک انڈیکس کی موجودگی ذیابیطس کے مریضوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے، تو اسے روزانہ کھانے سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ ضرور کریں۔ میٹھے تربوز کی پہچان انتہائی آسان حد سے زیادہ پانی اگر جسم میں پانی کی مقدار بڑھ جائے تو سوڈیم یا نمک کی سطح کم ہوجاتی ہے، جس سے سر چکرانے یا دیگر مسائل ہوسکتے ہیں۔ تربوز کو زیادہ مقدار میں کھانا جسم میں پانی کی مقدار کو بڑھا سکتا ہے اور اگر اس کا اخراج نہ ہو تو یہ خون کا والیوم بڑھا کر ٹانگوں میں سوجن، تھکاوٹ، گردوں کو کمزور کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔

بہت زیادہ پوٹاشیم بھی نقصان دہ تربوز پوٹاشیم کے حصول کا اچھا ذریعہ ہے اور یہ جز دل کو صحت مند رکھنے کے لیے بہت فائدہ مند ہے جبکہ ہڈیوں اور مسلز کو بھی مضبوط بناتا ہے، تاہم حد سے زیادہ پوٹاشیم جزو بدن بنانا خون کی شریانوں سے جڑے مسائل جیسے دھڑکن میں بے ترتیبی، کمزور دل کی دھڑکن وغیرہ کا خطرہ بڑھا دیتا ہے۔ ایک دن میں تربوز کی کتنی مقدار کھانی چاہئے؟ ماہرین کے مطابق سو گرام تربوز میں 30 کیلوریز ہوتی ہیں اور چونکہ یہ پانی پر مشتمل ہوتا ہے تو اسے آسانی سے آدھا کلو تک کھایا جاسکتا ہے جو کہ 150 کیلوریز کے برابر ہوتا ہے، مگر یہ بھی جان لیں کہ سو گرام تربوز میں 6 گرام مٹھاس یا شوگر ہوتی ہے تو آدھا کلو تربوز میں یہ مقدار 30 گرام تک پہنچ جائے گی۔یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…